حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 784
وعن رجل من الصحابة رضي الله عنه قال : غزوت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فسمعته يقول : « الناس شركاء في ثلاثة : في الكلإ والماء والنار ». رواه أحمد وأبو داود ورجاله ثقات.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ” تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سب حصہ دار ہیں ۔ گھاس ، پانی اور آگ ۔ “ احمد و ابوداؤد اس کے راوی ثقہ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان`
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ” تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سب حصہ دار ہیں۔ گھاس، پانی اور آگ۔ “ احمد و ابوداؤد اس کے راوی ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 784»
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ” تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سب حصہ دار ہیں۔ گھاس، پانی اور آگ۔ “ احمد و ابوداؤد اس کے راوی ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 784»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في منع الماء، حديث:3477، وأحمد:5 /364.»
تشریح: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ان تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز کسی بھی انسان کے ساتھ مخصوص نہیں۔
مگر گزشتہ احادیث کی بنا پر امام و سربراہ کی مقرر کی ہوئی چراگاہ کا حکم اس سے مستثنیٰ ہے۔
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في منع الماء، حديث:3477، وأحمد:5 /364.»
تشریح: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ان تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز کسی بھی انسان کے ساتھ مخصوص نہیں۔
مگر گزشتہ احادیث کی بنا پر امام و سربراہ کی مقرر کی ہوئی چراگاہ کا حکم اس سے مستثنیٰ ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 784 سے ماخوذ ہے۔