حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 781
وعن عبد الله بن مغفل أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من حفر بئرا فله أربعون ذراعا عطنا لماشيته ». رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص کہیں کنواں کھودے تو وہاں مال مویشی باندھنے کیلئے چالیس ہاتھ زمین اس کی ہے ۔ “ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2486 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کنویں کی چوحدی (رقبہ) کا بیان۔`
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2486]
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2486]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: (1)
اونٹوں کوپانی پلایا جاتا ہے تو ایک دفعہ پانی پی کروہ کنویں کے قریب بیٹھ جاتے ہیں پھر کچھ وقت کے بعد دوبارہ پانی پیتے ہیں اس مقصد کےلیے کنویں کےقریب جگہ مختص کی جاتی ہے۔
(2)
جو شخص ایسی جگہ کنواں کھودتا ہے جو کسی کی ملکیت نہیں تو وہ کنواں اور اس کے قریب کی چالیس ہاتھ جگہ اس کی ملکیت ہوجاتی ہے۔
فوائد و مسائل: (1)
اونٹوں کوپانی پلایا جاتا ہے تو ایک دفعہ پانی پی کروہ کنویں کے قریب بیٹھ جاتے ہیں پھر کچھ وقت کے بعد دوبارہ پانی پیتے ہیں اس مقصد کےلیے کنویں کےقریب جگہ مختص کی جاتی ہے۔
(2)
جو شخص ایسی جگہ کنواں کھودتا ہے جو کسی کی ملکیت نہیں تو وہ کنواں اور اس کے قریب کی چالیس ہاتھ جگہ اس کی ملکیت ہوجاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2486 سے ماخوذ ہے۔