حدیث نمبر: 777
وعن سعيد بن زيد رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: « من أحيا أرضا ميتة فهي له ». رواه الثلاثة وحسنه الترمذي وقال : روي مرسلا وهو كما قال . واختلف في صحابيه فقيل : جابر وقيل : عائشة وقيل : عبد الله بن عمر والراجح الأول.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جس کسی نے بے آباد بیکار پڑی زمین کو زندہ کیا وہ اسی کی ملکیت ہے ۔ “ اسے تینوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسے مرسل بھی روایت کیا گیا ہے اور وہ اسی طرح ہے جس طرح کہا ہے ۔ اس حدیث کے صحابی میں اختلاف ہے ۔ ایک قول ہے کہ وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ مگر راجح قول پہلا ہی ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 777
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الخراج والإمارة، باب في إحياء الموات، حديث:3073، والترمذي، الأحكام، حديث:1378، والنسائي في الكبرٰي:3 /405، حديث:5761.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3073

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان`
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " جس کسی نے بے آباد بیکار پڑی زمین کو زندہ کیا وہ اسی کی ملکیت ہے۔ " اسے تینوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسے مرسل بھی روایت کیا گیا ہے اور وہ اسی طرح ہے جس طرح کہا ہے۔ اس حدیث کے صحابی میں اختلاف ہے۔ ایک قول ہے کہ وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ مگر راجح قول پہلا ہی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 777»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الخراج والإمارة، باب في إحياء الموات، حديث:3073، والترمذي، الأحكام، حديث:1378، والنسائي في الكبرٰي:3 /405، حديث:5761.»
تشریح: ان دونوں احادیث میں زمین کو آباد کرنے اور اس میں فصل بونے‘ باغ لگانے اور پانی محفوظ کرنے کے لیے کنواں وغیرہ کھودنے کی اجازت ہے کہ جو کوئی بے آباد زمین آباد کرے گا وہ اسی کی ملکیت ہوگی۔
گویا اسلام میں بیکار زمین پڑی رہنے کا تصور نہیں۔
اسے بہرنوع آباد ہونا چاہیے۔
کسی ملک کے استحکام کا بھی یہی تقاضا ہے۔
اس سے انفرادی ملکیت کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 777 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3073 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان۔`
سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے (وہی اس کا مالک ہو گا) کسی اور ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ہے ۱؎۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3073]
فوائد ومسائل:

چونکہ آج کل حکومت تمام زمینوں کی مالک اور متصرف ہوتی ہے۔
اس لئے پہلے اس سے اجازت لینا قرین قیاس ہے۔
ویسے حکومت سے بھی آباد کاری اسکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔


ظالم رگ سے مراد وہ درخت بھی ہیں۔
جو کوئی کسی دوسرے زمین میں بغیر اجازت کے لگا دے۔
یا مکان بنالے۔
اسے کہا جائے گا۔
کہ اپنا درخت نکال لے یا مکان کا ملبہ اٹھالے الا یہ کہ زمین کا مالک خود راضی ہوجائے جیسے کہ درج ذیل حدیث میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3073 سے ماخوذ ہے۔