حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— خرید و فروخت کے مسائل
باب المساقاة والإجارة باب: آبپاشی اور زمین کو ٹھیکہ پر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 775
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من استأجر أجيرا؛ فليسم له أجرته ». رواه عبد الرزاق وفيه انقطاع ووصله البيهقي من طريق أبي حنيفة.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو آدمی کسی مزدور کو اجرت پر کام کے لیے لگائے تو اسے اس کی پوری مزدوری دینی چاہیئے ۔ “ اسے عبدالرزاق نے روایت کی ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے اور بیہقی نے اس حدیث کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے موصول روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´آبپاشی اور زمین کو ٹھیکہ پر دینے کا بیان`
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو آدمی کسی مزدور کو اجرت پر کام کے لیے لگائے تو اسے اس کی پوری مزدوری دینی چاہیئے۔ “ اسے عبدالرزاق نے روایت کی ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے اور بیہقی نے اس حدیث کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے موصول روایت کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 775»
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو آدمی کسی مزدور کو اجرت پر کام کے لیے لگائے تو اسے اس کی پوری مزدوری دینی چاہیئے۔ “ اسے عبدالرزاق نے روایت کی ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے اور بیہقی نے اس حدیث کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے موصول روایت کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 775»
تخریج:
«أخرجه عبدالرزاق في المصنف:8 /235، وسنده ضعيف لِا نقطاعه، إبراهيم النخعي لم يدرك أبا سعيد الخدري وأبا هريرة، وأخرجه البيهقي:6 /120 وسنده ضعيف، إبراهيم بن هلال أو بلال لم أجد له ترجمة.»
تشریح: یہ حدیث سنداَ ضعیف ہے، تا ہم اس بات پر اجماع ہے کہ اجارے کی صورت میں اجرت کا تعین کرنا ضروری ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
«أخرجه عبدالرزاق في المصنف:8 /235، وسنده ضعيف لِا نقطاعه، إبراهيم النخعي لم يدرك أبا سعيد الخدري وأبا هريرة، وأخرجه البيهقي:6 /120 وسنده ضعيف، إبراهيم بن هلال أو بلال لم أجد له ترجمة.»
تشریح: یہ حدیث سنداَ ضعیف ہے، تا ہم اس بات پر اجماع ہے کہ اجارے کی صورت میں اجرت کا تعین کرنا ضروری ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 775 سے ماخوذ ہے۔