حدیث نمبر: 766
عن حكيم بن حزام رضي الله عنه : أنه كان يشترط على الرجل إذا أعطاه مالا مقارضة أن لا تجعل مالي في كبد رطبة ولا تحمله في بحر ولا تنزل به في بطن مسيل فإن فعلت شيئا من ذلك فقد ضمنت مالي. رواه الدارقطني ورجاله ثقات. وقال مالك في الموطأ عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن جده : إنه عمل في مال لعثمان على أن الربح بينهما. وهو موقوف صحيح.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ جب کسی شخص کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تھے تو اس سے یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ میرے مال سے حیوان کی تجارت نہ کرو گے اور سمندر میں لے کر بھی نہیں جاؤ گے اور سیلاب کی جگہوں میں لے کر اسے نہیں جاؤ گے ۔ ان میں سے کوئی کام بھی اگر تم نے کیا تو میرے مال کے تم خود ضامن و ذمہ دار ہو گے ۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے موطا میں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب والد اور اس کے دادا کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں تجارت اس شرط پر کی تھی کہ منافع دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا ۔ یہ حدیث موقوف صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 766
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني:3 /63، والبيهيقي:6 /111، ومالك في الموطأ:2 /688.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مضاربت کا بیان`
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب کسی شخص کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تھے تو اس سے یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ میرے مال سے حیوان کی تجارت نہ کرو گے اور سمندر میں لے کر بھی نہیں جاؤ گے اور سیلاب کی جگہوں میں لے کر اسے نہیں جاؤ گے۔ ان میں سے کوئی کام بھی اگر تم نے کیا تو میرے مال کے تم خود ضامن و ذمہ دار ہو گے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے موطا میں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب والد اور اس کے دادا کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں تجارت اس شرط پر کی تھی کہ منافع دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔ یہ حدیث موقوف صحیح ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 766»
تخریج:
«أخرجه الدارقطني:3 /63، والبيهيقي:6 /111، ومالك في الموطأ:2 /688.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت عَلاء رحمہ اللہ» ان کی کنیت أبوشِبْل ہے اور سلسلۂ نسب یوں ہے: علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب جہنی۔
قبیلۂحرقہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
(حرقہ کے ’’حا‘‘ پر ضمہ اور ’’را‘‘ پر فتحہ ہے۔
) مدینے کے باشندے تھے۔
بہت بڑے امام تھے۔
صغار تابعین میں سے تھے۔
طبقۂ خامسہ سے تھے۔
صدوق تھے۔
کبھی وہم بھی ہو جایا کرتا تھا۔
امام احمد رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے۔
واقدی نے کہا ہے کہ خلیفہ منصور کے دور میں وفات پائی۔
«حضرت عبدالرحمن بن یعقوب رحمہ اللہ» عبدالرحمن بن یعقوب جُہَنِی مدنی۔
اوسط تابعین میں سے تھے۔
ان کا شمار طبقۂ ثالثہ میں ہوتا ہے۔
انھوں نے اپنے والد کے علاوہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی سماع کیا ہے۔
«حضرت یعقوب رحمہ اللہ» یعقوب جُہَنِی قبیلۂحرقہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
کبار تابعین میں سے تھے۔
ان کا شمار طبقۂ ثانیہ میں ہوتا ہے۔
انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے روایت بھی کی ہے۔
ان سے قلیل روایات مروی ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 766 سے ماخوذ ہے۔