عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال : قضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل ما لم يقسم فإذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة. متفق عليه ، واللفظ للبخاري. وفي رواية مسلم: الشفعة في كل شرك: أرض ، أو ربع ، أو حائط ، لا يصلح أن يبيع حتى يعرض على شريكه وفي رواية الطحاوي: قضى النبي صلى الله عليه وآله وسلم بالشفعة في كل شيء ، ورجاله ثقات .´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو مگر جب حدود بندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں ۔ ( بخاری و مسلم ) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ شفعہ ہر مشترک چیز میں ہے ( مثلا ) زمین میں ، مکان میں ، باغ میں ۔ اپنے حصہ دار ( شریک ) کے روبرو پیش کئے بغیر کسی کیلئے چیز فروخت کرنا درست نہیں اور طحاوی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ رکھا ہے ۔ اس کے راوی ثقہ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس عنوان میں امام بخاری ؒ نے زمین اور گھروں کے ساتھ عروض کا لفظ بھی شامل کیا ہے،اس کے معنی ہیں: اسباب وسامان وغیرہ۔
جب اس میں دوسرے شریک ہوں تو ان کے ہاتھ بھی فروخت کیا جاسکتا ہے، مثلاً: ایک گھوڑے میں اگر دوشریک ہیں تو ایک شریک کو چاہیے کہ وہ دوسرے شریک کو پیش کش کرے کہ وہ پورا گھوڑا خرید لے۔
اگر وہ ایسا نہ کرے تو جس قیمت میں وہ فروخت ہوا ہے، اس میں سے دوسرے شریک کو حصہ دے۔
(2)
آخر میں امام بخاری ؒ نے الفاظ حدیث کے اختلاف کو بیان کیا ہے، لیکن یہ اختلاف حدیث کے مفہوم پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتا۔
والله أعلم.
(1)
شفعے کے لغوی معنی’’ ایک چیز کو دوسری چیز سے ملالینے‘‘ کے ہیں۔
چونکہ شفعہ کرنے والا اپنی ملکیت کے ساتھ دوسرے کی ملکیت کو حاصل کرکے ملالیتا ہے، اس لیے اس فعل کو شفعہ کہا جاتا ہے۔
اصطلاحی طور پر شفعے سے مراد مشتری سے اس کی رضامندی کے بغیر خرید کردہ چیز کو اس قیمت پر حاصل کرنا ہے جس قیمت میں مشتری نے اسے اصل مالک سے خریدا تھا۔
(2)
شفعے کے بالترتیب تین اسباب حسب ذیل ہیں: ٭ شرکتِ ملکیت: ایک شخص فروخت کردہ مشفوعہ جائیداد کی ذات میں شریک ہو جیسا کہ دویا دوسے زیادہ آدمی غیر منقسم زمین یا مکان میں شریک ہوں۔
٭ شرکتِ حق: دویا دو سے زیادہ اشخاص فروخت کردہ جائیداد کی ذات کے بجائے اس کے حقوق میں شریک ہوں، مثلاً: حق گزر یا حق سیرابی وغیرہ۔
٭ ہمسائیگی: شفعہ کرنے والے کا مکان فروخت کردہ جائیداد سے متصل ہو۔
(3)
شفعہ خلاف اصل ثابت ہوتا ہے کیونکہ اسے مشتری کی ملک سے چھین کر اس کی رضامندی کے بغیر اسے معاوضہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے، تاہم شریعت نے بعض مصالح کی بنا پر اسے جائز قرار دیا ہے، اس لیے مطلق طور پر اسے جائز نہیں قرار دیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے چند ایک شرائط حسب ذیل ہیں: ٭ پیش کردہ حدیث کے مطابق شفعے کےلیے ضروری ہے کہ وہ جائیداد مشترک ہواور اسے تقسیم نہ کیا گیا ہو۔
اگر جائیداد تقسیم ہوجائے اور راستے الگ الگ ہوجائیں تو حق شفعہ ساقط ہوجاتا ہے۔
٭وہ ایسی جائیداد ہو جو فروخت کرنے والے کی ملکیت غیر منقولہ ہو۔
منقولہ جائیداد فروخت کرنے میں کوئی شفعہ نہیں ہوگا، مثلاً: حیوانات، اناج یا پھل وغیرہ۔
٭شفعہ کرنے والے کی وہ جائیداد جس کی وجہ سے اسے شفعے کا حق حاصل ہورہا ہے اس کی اپنی مملوکہ ہو۔
وقف کی اراضی یا حکومت کی جائیداد پر کسی کو شفعے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
٭ شفعے کا حق اس وقت حاصل ہوگا جب کوئی جائیداد بذریعہ عقد بیع قطعی طور پر منتقل کی گئی ہو۔
اس بنا پر ہبہ، وراثت یا صدقے کے ذریعے سے ملنے والی چیز پر شفعہ نہیں ہوگا۔
٭اس کا مطالبہ بھی فوری ہونا چاہیے۔
جب علم ہونے کے بعد خاموشی اختیار کی جائے تو اس سے حق شفعہ ساقط ہوجاتا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ شفعہ ہر مشترکہ جائیداد میں ہے لیکن سیاق حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حق شفعہ صرف زمین کے ساتھ خاص ہے۔
(فتح الباري: 551/4)
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شفعہ ہر مشترکہ جائیداد میں ہے، مثلاً: زمین، دوکان یا باغ وغیرہ۔
انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے فروخت کرے یہاں تک کہ اس کا شریک اس کی اجازت دے۔
اگر وہ چاہے تو خود رکھ لے، چاہے تو اس سے دست بردار ہوجائے۔
اس کی اجازت کے بغیر اگر اسے فروخت کردیا گیا تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، البیوع، حدیث: 4127(1608)
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ کر دیے جائیں تو شفعہ نہیں " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1370]
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ شفعہ صرف اس جائداد میں ہے جو مشترک ملکیت میں ہو، محض پڑوسی ہو نا حق شفعہ کے اثبات کے لیے کافی نہیں، یہی جمہور کا مسلک ہے اور یہی حجت وصواب سے قریب تربھی ہے، حنفیہ نے اس کی مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ شفعہ جس طرح مشترک جائیداد میں ہے اسی طرح پڑوس کی بنیاد پربھی شفعہ جائزہے، ان کی دلیل حدیث نبوی ’’جار الدار أحق بالدار‘‘ ہے۔
2؎:
جمہوراس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس حدیث میں مراد شریک (ساجھی) ہے، مطلق پڑوسی کا تو کبھی راستہ الگ بھی ہوتا ہے، جب کہ راستہ الگ ہوجانے پر حق شفعہ نہیں ہے۔