حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 759
وعن أبي بكرة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في خطبته يوم النحر بمنى : « إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ». متفق عليه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز منٰی میں اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ ’’ بیشک تمہارے خون اور اموال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا یہ دن حرمت والا ہے جو تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں واقع ہوا ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´غصب کا بیان`
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز منٰی میں اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ ’’ بیشک تمہارے خون اور اموال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا یہ دن حرمت والا ہے جو تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں واقع ہوا ہے۔ " (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 759»
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز منٰی میں اپنے خطبہ کے دوران فرمایا کہ ’’ بیشک تمہارے خون اور اموال اور تمہاری آبروئیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا یہ دن حرمت والا ہے جو تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں واقع ہوا ہے۔ " (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 759»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحج، باب الخطبة أيام مني، حديث:1739، ومسلم، القسامة والمحاربين، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، حديث:1679.»
تشریح: مصنف رحمہ اللہ اس حدیث کو اگر بَابُ الْغَصْبِ کے شروع میں بیان کرتے تو بہت خوب ہوتا۔
بہرحال اس مقام پر اسے بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ مسلمان کا مال غصب کرنا حرام ہے اور اس کی حرمت پر سب متفق ہیں۔
«أخرجه البخاري، الحج، باب الخطبة أيام مني، حديث:1739، ومسلم، القسامة والمحاربين، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، حديث:1679.»
تشریح: مصنف رحمہ اللہ اس حدیث کو اگر بَابُ الْغَصْبِ کے شروع میں بیان کرتے تو بہت خوب ہوتا۔
بہرحال اس مقام پر اسے بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ مسلمان کا مال غصب کرنا حرام ہے اور اس کی حرمت پر سب متفق ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 759 سے ماخوذ ہے۔