حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 750
عن أبي ذر رضي الله عنه قال : قال لي النبي صلى الله عليه وآله وسلم : « قل الحق ولو كان مرا ». صححه ابن حبان من حديث طويل.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا ” حق کہو خواہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو ۔ “ اسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے ۔ ایک لمبی حدیث میں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´اقرار کا بیان`
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا ” حق کہو خواہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو۔ “ اسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ ایک لمبی حدیث میں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 750»
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا ” حق کہو خواہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو۔ “ اسے ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ ایک لمبی حدیث میں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 750»
تخریج:
«أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:94.* إبراهيم بن هشام بن يحي الغساني ضعيف متروك.»
تشریح: مذکورہ روایت تفصیلاً ابن حبان میں ہے جو کہ سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے‘ البتہ اس حدیث کے بعض حصوں کے شواہد دیگر کتب احادیث میں موجود ہیں جنھیں محققین نے صحیح کہا ہے‘ انھی میں سے مذکورہ روایات میں بیان کردہ حصہ ہے جسے محققین نے صحیح قرار دیا ہے‘ جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الأمام أحمد:۳۵ /۳۲۷‘ ۳۲۸‘ و صحیح الترغیب والترھیب للألباني:۱۲ /۵۸۱‘ رقم:۲۳۲۰) اس حدیث میں حق گوئی کا حکم ہے‘ خواہ کتنے ہی ناگوار حالات سے دوچار ہونا پڑے‘ حق و صداقت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
«أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:94.* إبراهيم بن هشام بن يحي الغساني ضعيف متروك.»
تشریح: مذکورہ روایت تفصیلاً ابن حبان میں ہے جو کہ سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے‘ البتہ اس حدیث کے بعض حصوں کے شواہد دیگر کتب احادیث میں موجود ہیں جنھیں محققین نے صحیح کہا ہے‘ انھی میں سے مذکورہ روایات میں بیان کردہ حصہ ہے جسے محققین نے صحیح قرار دیا ہے‘ جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الأمام أحمد:۳۵ /۳۲۷‘ ۳۲۸‘ و صحیح الترغیب والترھیب للألباني:۱۲ /۵۸۱‘ رقم:۲۳۲۰) اس حدیث میں حق گوئی کا حکم ہے‘ خواہ کتنے ہی ناگوار حالات سے دوچار ہونا پڑے‘ حق و صداقت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 750 سے ماخوذ ہے۔