حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 741
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا كفالة في حد ». رواه البيهقي بإسناد ضعيفترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ کی حد میں ضمانت و ذمہ داری نہیں ۔ ” اسے بیہقی نے کمزور سند سے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´ضمانت اور کفالت کا بیان`
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ کی حد میں ضمانت و ذمہ داری نہیں۔ ” اسے بیہقی نے کمزور سند سے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 741»
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ کی حد میں ضمانت و ذمہ داری نہیں۔ ” اسے بیہقی نے کمزور سند سے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 741»
تخریج:
«أخرجه البيهقي:6 /77، وقال: تفرد به بقية عن أبي محمد عمر بن أبي عمر الكلاعي وهو من مشايخ بقية المجهولين ورواياته منكرة.* أبو محمد عمر بن أبي عمر الكلاعي مجهول كما عرفت وبقية عنعن.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے‘ لیکن معناً صحیح ہے۔
بنابریں جرائم کا ارتکاب کرنے والے ہی سزا کے حق دار ہوں گے۔
کسی کے جرم کی حد اس کے والد‘ بھائی یا دیگر رشتہ داروں پر جاری نہ ہوگی۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (توضیح الأحکام من بلوغ المرام: ۴ /۵۳۰‘ ۵۳۱)
«أخرجه البيهقي:6 /77، وقال: تفرد به بقية عن أبي محمد عمر بن أبي عمر الكلاعي وهو من مشايخ بقية المجهولين ورواياته منكرة.* أبو محمد عمر بن أبي عمر الكلاعي مجهول كما عرفت وبقية عنعن.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے‘ لیکن معناً صحیح ہے۔
بنابریں جرائم کا ارتکاب کرنے والے ہی سزا کے حق دار ہوں گے۔
کسی کے جرم کی حد اس کے والد‘ بھائی یا دیگر رشتہ داروں پر جاری نہ ہوگی۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (توضیح الأحکام من بلوغ المرام: ۴ /۵۳۰‘ ۵۳۱)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 741 سے ماخوذ ہے۔