حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— خرید و فروخت کے مسائل
باب السلم والقرض، والرهن. باب: پیشگی ادائیگی ، قرض اور رھن کا بیان
حدیث نمبر: 725
وعن أبي رافع رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استسلف من رجل بكرا فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره فقال: لا أجد إلا خيارا رباعيا فقال : « أعطه إياه فإن خيار الناس أحسنهم قضاء ». رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس شخص کو جوان اونٹ ادا کر دیا جائے ۔ میں نے عرض کیا اس سے بہتر سات سالہ اونٹ موجود ہے ۔ فرمایا ” یہی اسے دے دو ، کیونکہ بہترین آدمی وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے اچھا ہو ۔ “ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´پیشگی ادائیگی، قرض اور رھن کا بیان`
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس شخص کو جوان اونٹ ادا کر دیا جائے۔ میں نے عرض کیا اس سے بہتر سات سالہ اونٹ موجود ہے۔ فرمایا ” یہی اسے دے دو، کیونکہ بہترین آدمی وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے اچھا ہو۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 725»
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس شخص کو جوان اونٹ ادا کر دیا جائے۔ میں نے عرض کیا اس سے بہتر سات سالہ اونٹ موجود ہے۔ فرمایا ” یہی اسے دے دو، کیونکہ بہترین آدمی وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے اچھا ہو۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 725»
تخریج:
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب من استسلف شيئًا فقضٰي خيرًا منه، حديث:1600.»
تشریح: 1. اس حدیث کی رو سے مقروض انسان اگر خودبخود اپنی مرضی سے ادائیگی ٔ قرض کے وقت واجب الادا قرض سے مقدار میں زیادہ یا بہتر اور عمدہ ادا کرے تو یہ جائز ہے۔
2. اگر قرض خواہ قرض دیتے وقت یہ شرط طے کرے کہ ادائیگی کے موقع پر میں تجھ سے اتنا مزید لوں گا‘ یا یہ کہے کہ قرض میں زیادہ عمدہ اور بہتر چیز لوں گا تو یہ سود شمار کیا جائے گا۔
اور سود ہر صورت میں حرام ہے۔
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب من استسلف شيئًا فقضٰي خيرًا منه، حديث:1600.»
تشریح: 1. اس حدیث کی رو سے مقروض انسان اگر خودبخود اپنی مرضی سے ادائیگی ٔ قرض کے وقت واجب الادا قرض سے مقدار میں زیادہ یا بہتر اور عمدہ ادا کرے تو یہ جائز ہے۔
2. اگر قرض خواہ قرض دیتے وقت یہ شرط طے کرے کہ ادائیگی کے موقع پر میں تجھ سے اتنا مزید لوں گا‘ یا یہ کہے کہ قرض میں زیادہ عمدہ اور بہتر چیز لوں گا تو یہ سود شمار کیا جائے گا۔
اور سود ہر صورت میں حرام ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 725 سے ماخوذ ہے۔