حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 703
وعن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال : اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : « لا تباع حتى تفصل ».رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ’’ میں نے خیبر کے روز ایک ہار بارہ دینار میں خریدا ۔ اس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے ۔ میں نے ان کو الگ کر دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا ۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب تک ان کو الگ الگ نہ کر لیا جائے ، فروخت نہ کیا جائے ۔ ‘‘ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´سود کا بیان`
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ میں نے خیبر کے روز ایک ہار بارہ دینار میں خریدا۔ اس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے۔ میں نے ان کو الگ کر دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب تک ان کو الگ الگ نہ کر لیا جائے، فروخت نہ کیا جائے۔ ‘‘ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 703»
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ میں نے خیبر کے روز ایک ہار بارہ دینار میں خریدا۔ اس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے۔ میں نے ان کو الگ کر دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب تک ان کو الگ الگ نہ کر لیا جائے، فروخت نہ کیا جائے۔ ‘‘ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 703»
تخریج:
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع القلادة فيها خرز وذهب، حديث:1591.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی چیز میں سونے کی بنی ہوئی چیز کا جڑاؤ ہو تو اسے الگ کیے بغیر سونے کے عوض فروخت کرنا جائز نہیں کیونکہ جب تک دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا‘ صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا کہ جس کے عوض اسے فروخت کیا جا رہا ہے وہ اس کے مساوی ہے یا نہیں؟ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ اور اکثر علماء کی یہی رائے ہے۔
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع القلادة فيها خرز وذهب، حديث:1591.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی چیز میں سونے کی بنی ہوئی چیز کا جڑاؤ ہو تو اسے الگ کیے بغیر سونے کے عوض فروخت کرنا جائز نہیں کیونکہ جب تک دونوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا‘ صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا کہ جس کے عوض اسے فروخت کیا جا رہا ہے وہ اس کے مساوی ہے یا نہیں؟ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ اور اکثر علماء کی یہی رائے ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 703 سے ماخوذ ہے۔