حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 701
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيع الصبرة من التمر لا يعلم مكيلها بالكيل المسمى من التمر. رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے کسی ایسے ڈھیر کو جس کا ماپ نہ کیا گیا ہو ، کھجوروں کے معین ماپ کے بدلہ میں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´سود کا بیان`
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے کسی ایسے ڈھیر کو جس کا ماپ نہ کیا گیا ہو، کھجوروں کے معین ماپ کے بدلہ میں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 701»
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے کسی ایسے ڈھیر کو جس کا ماپ نہ کیا گیا ہو، کھجوروں کے معین ماپ کے بدلہ میں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 701»
تخریج:
«أخرجه مسلم، البيوع، باب تحريم بيع صبرة التمر المجهولة القدربتمر، حديث:1530.»
تشریح: اس حدیث میں کسی چیز کے ڈھیر کو‘ جس کا وزن یا ماپ معلوم نہ ہو‘ اسی جنس کی معین مقدار یا وزن کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ ڈھیر کی مقدار اور وزن معلوم نہیں‘ اس لیے اس سے فریقین میں سے ایک کو نقصان اور دوسرے کو بلاوجہ فائدہ پہنچتا ہے‘ اسی وجہ سے اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
جہاں کمی بیشی کا احتمال ہوگا وہ بھی اسی ممانعت کے تحت شمار ہو گی۔
«أخرجه مسلم، البيوع، باب تحريم بيع صبرة التمر المجهولة القدربتمر، حديث:1530.»
تشریح: اس حدیث میں کسی چیز کے ڈھیر کو‘ جس کا وزن یا ماپ معلوم نہ ہو‘ اسی جنس کی معین مقدار یا وزن کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ ڈھیر کی مقدار اور وزن معلوم نہیں‘ اس لیے اس سے فریقین میں سے ایک کو نقصان اور دوسرے کو بلاوجہ فائدہ پہنچتا ہے‘ اسی وجہ سے اسے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
جہاں کمی بیشی کا احتمال ہوگا وہ بھی اسی ممانعت کے تحت شمار ہو گی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 701 سے ماخوذ ہے۔