وعن أبي سعيد ، وأبي هريرة رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم استعمل رجلا على خيبر ، فجاءه بتمر جنيب ، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أكل تمر خيبر هكذا " فقال: لا ، والله يا رسول الله ، إنا لنأخذ الصاع من هذا بالصاعين والثلاثة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم " لا تفعل ، بع الجمع بالدراهم ، ثم ابتع بالدراهم جنيبا وقال في الميزان مثل ذلك. متفق عليه ، ولمسلم: " وكذلك الميزان´سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر پر عامل مقرر کیا ۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہت عمدہ کھجوریں لے کر حاضر ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ ” کیا خیبر میں پیدا ہونے والی سب کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں ؟ “ اس نے عرض کیا ، نہیں ! اے اللہ کے رسول ! خدا کی قسم ! ہم دوسری کھجوریں دو صاع اور تین صاع دے کر یہ کھجوریں ایک صاع لیتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ایسا نہ کرو ۔ گھٹیا کھجوروں کو دراہم کے عوض فروخت کر کے عمدہ اور اچھی کھجوریں بھی درہموں کے عوض خریدو “ اور فرمایا ” تولنے والی اشیاء بھی اسی کی مانند ہیں ۔ “ ( بخاری و مسلم ) مسلم میں ہے کہ ” تول میں بھی اسی طرح ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
خیبر کا علاقہ بڑازرخیزاور وہاں کی زمین زرعی اور باغبانی تھی۔
فتح کے بعد یہ علاقہ یہودیوں کو بٹائی پر دے دیاگیا۔
وہاں سے پیدا وار کا حصہ وصول کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو تعینات کیا، انھوں نے وہاں سے وصولی ایسے طریقے سے کی جس سے سواری کارو بار کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔
وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے وہاں کی کھجوریں بطور تحفہ لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں مذکورہ بالا ہدایت فرمائی۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرام سے بچنے کے لیے کوئی حیلہ کیا جائے تو جائز ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اسے حیلے کی تعلیم دی۔
حرام سے بچنے کے لیے بسا اوقات ایسا کرنا مستحب بلکہ واجب ہوتا ہے3۔
حضرت ایوب ؑ کے واقعے میں حیلے کی نظیر خود قرآن نے بیان کی ہے۔
ہاں اگر کسی واجب سے گریز کے لیے کوئی حیلہ کیا جائے تو ایسا کرنانا جائز اور حرام ہے جیسا کہ چھ ماہ تک زیورات بیوی کے نام اور چھ ماہ تک کے لیے شوہر کے نام کر دیے جائیں تاکہ کسی ایک کی ملکیت میں ان پر سال نہ گزرے اور نہ ان پر زکوۃ واجب ہو۔
ایسا کرنا ناجائز اور حرام ہے۔
قرآن کریم نے اس قسم کے حیلوں کی مذمت کی ہے جیسا کہ سمندر کے کنارے مچھلیاں پکڑنے والوں کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے۔
ایسا ہی سونا کے بدلے میں دوسرا سونا کم وبیش لینے کی ضرورت ہے، تو پہلے سونے کو روپوں یا اسباب کے بدل بیچ ڈالے۔
پھر روپوں یا اسباب کے عوض دوسرا سونا لے لے۔
حافظ ؒ فرماتے ہیں: و في الحدیث جواز اختیارطیب الطعام و جواز الوکالة في البیع و غیرہ و فیه أن البیوع الفاسدة ترد الخ یعنی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اچھے غلے کو پسند کرنا جائز ہے اور بیع وغیرہ میں وکالت درست ہے اور یہ بھی کہ بیع فاسد کو رد کیا جاسکتا ہے۔
اس حدیث میں خیبر کا ذکر آیا ہے جو یہودیوں کی ایک بستی مدینہ شریف سے شمال مشرق میں تین چار منزل کے فاصلہ پر واقع تھی۔
اس مقام پر مدینہ کے یہودی قبائل کو ان کی مسلسل غداریوں اور فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔
اور یہاں آنے کے بعد وہ دوسرے یہودیوں کو ساتھ لے کر ہر وقت اسلام کے استیصال کے لیے تدبیریں کرتے تھے۔
اس طرح خیبر عام اشتعال اور فسادات کا مرکز بنا ہوا تھا۔
ان کی ان غلط در غلط کوششوں کو پامال کرنے اور وہاں قیام امن کے لیے آنحضرت ﷺ نے محرم 7ھ میں چودہ سو جاں نثار صحابہ کرام کے ہمراہ سفر فرمایا۔
یہود خیبر نے یہ اطلاع پاکر جملہ اقوام عرب کی طرف امداد کے لیے اپنے قاصد و سفراءدوڑائے مگر صرف بنی فزارہ ان کی امداد کے نام سے آئے۔
وہ بھی موقع پاکر مسلمانوں کے اونٹوں کے گلے لوٹ کر واپس بھاگ گئے اور یہود تنہا رہ گئے۔
بڑی خون ریز جنگ ہوئی، آخر اللہ پاک نے اپنے سچے رسول ﷺ کو فتح مبین عطا فرمائی اور یہودیوں کو شکست فاش ہوئی۔
اطراف میں بھی یہودیوں کے مختلف مواضعات تھے۔
وطیح، سلالم، فدک وغیرہ ان کے باشندوں نے خود بخود اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ کے حوالہ کر دیا اور معافی کے خواستگار ہوئے۔
آنخضرت ﷺ نے نہایت فیاضی سے سب کو معافی دے دی ان کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ میں کوئی دست اندازی نہیں کی گئی۔
ان کو پوری مذہبی آزادی بھی دے دی گئی اور زمین کی نصف پیداوار پر ان کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا گیا۔
اور وہاں سے غلہ کی وصولی کے لیے ایک شخص کو تحصیل دار مقرر کیا گیا۔
اسی کا ذکر اس حدیث میں مذکور ہے اور یہ بیع کا معاملہ بھی اس تحصیلدار صاحب سے متعلق ہے۔
مزید تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
(1)
اس حدیث کے پیش نظر سودی معاملات میں اس قسم کے حیلے کو جائز قرار دیا گیا ہے، مثلاً: ایک عمدہ سونے کے عوض کم قیراط والے سونے کو کمی بیشی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہوتو پہلے عمدہ سونے کو روپے کے عوض فروخت کردیا جائے، پھر ان کے عوض دوسرا سونا خریدا جائے۔
ہم جنس اشیاء کا کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ کرنا سود ہے، خواہ نقد بنقد ہی کیوں نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور برابر، برابر لینے دینے کا حکم دیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4081(1593)
رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کے سودے کو سود قرار دیا ہے اور اسے واپس کرنے کا حکم دیا ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ایک روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4083(1594)
حضرت بلال ؓ سے بھی اس قسم کا ایک واقعہ منقول ہے،اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افسوس! یہ تو بعینہ سود ہے آئندہ ایسا مت کرنا۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4087(1594)
ہم جنس اشیاء کی باہمی خریدوفروخت کے متعلق اس ضابطے کے حوالے سے آج کل یہ عام سوال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک جنس، مثلاً: کھجور بہتر قسم کی ہو اور دوسری کمتر کوالٹی کی ہو جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں ہے تو دونوں کو ہم مقدار رکھنا کیسے قرین انصاف ہوسکتا ہے جبکہ اسلام نے ہمیں عدل وانصاف کا حکم دیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر نوع کی کھجور یا گندم بنیادی طور پر انسان کی بھوک مٹاتی ہے، محض تنوع یا ذائقے میں فرق رکھنے کے اعتبار سے تبادلے کی گنجائش ہے لیکن بھوک مٹانے میں دونوں برابر ہیں۔
اس بنا پر تبادلہ کرتے وقت دونوں کی مقدار برابر رکھی جائے۔
عدل وانصاف کا یہی تقاضا ہے۔
اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ غذائی ضرورت کو پورا کرنے میں ایک نوع دوسری نوع سے بہتر ہے، اس لیے ان دونوں کا تبادلہ کرتے وقت فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔
عام آدمی کے پاس تو ایسا کوئی آلہ یا ترازو موجود نہیں جو عدل و انصاف کے مطابق ایک کوالٹی کے دوسری کوالٹی سے تبادلے میں دونوں کی مقداریں صحیح طور پر متعین کرسکے،اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ گھٹیا کوالٹی کی نقدی کے ذریعے سے قیمت طے کرلو اور اسے طے شدہ نقدی کے عوض فروخت کرو پھر اعلیٰ کوالٹی کی قیمت بھی بذریعہ نقدی طے کرلو اور اسے نقدی کے عوض خرید لو۔
اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے صحیح معنوں میں پورے ہوجائیں گے۔
کوالٹی کا فرق کتنا ہے اس کو وزن یا ماپ کے ذریعے سے متعین نہیں کیا جاسکتا، قیمت کے ذریعے سے متعین کیا جاسکتا ہے، کوالٹی کے تعین کے لیے قیمت ہی ایک غیر جانبدار اور مناسب ترین ذریعہ ہے۔
اگر قیمت کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ محض وزن میں کمی بیشی کے ذریعے سے کام چلانے کی کوشش کی جائے تو دونوں میں سے ایک فریق کا حق ضرور مارا جائے گا۔
کوالٹی کا فرق متعین کرنے کے لیے وزن کو معیار بنایا گیا تو باہمی رضامندی کے تقاضے بھی پورے نہیں ہوں گے جو صحت بیع کے لیے ضروری ہے۔
والله أعلم. (2)
صاحب تدبر قرآن نے حسب عادت اس مقام پر بھی خلط مبحث سے کام لیا ہے۔
ان کی حدیث دانی کا یہ عالم ہے کہ لکھا ہے: رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم نہیں دیا کہ کھجوروں کا مبادلہ برابر مقدار ہی میں کرنا ہوگا۔
(تدبر حدیث: 1/486)
حالانکہ اس بات کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم ایسا مت کرو بلکہ مقدار برابر رکھو یا ایک کو قیمت سے فروخت کرکے اس قیمت سے دوسری کھجوریں خرید لو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، حدیث: 7351،7350)
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاحکام میں اس عنوان سے ملتا جلتا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے: (باب إِذَا قَضَى الْحَاكِمُ بِجَوْرٍ أَوْ خِلاَفِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَهْوَ رَدٌّ)
’’جب کوئی حاکم اہل علم کےخلاف یا ظلم پر مبنی فیصلہ کرےتو وہ مردود ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأحکام، باب: نمبر35)
یہ تکرار نہیں بلکہ پہلا عنوان اجماع کے خلاف اور مذکورہ عنوان سنت کے خلاف فیصلے کورد کرنے سے متعلق ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی نے سنت کے خلاف فیصلہ کیا ہے خواہ وہ جہالت یا غلطی کی وجہ سے ہو تو حق واضح ہونے کے بعد اس سے رجوع ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض قرار دیا ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے کتنے فیصلے ایسے ہیں کہ حق معلوم ہونے کے بعد انھوں نے رجوع کیا اور اپنے غلط موقف کو چھوڑ دیا۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ صحابی نے اجتہاد کیا اور ردی کھجوریں دے کر مقدار میں کم،عمدہ کھجوریں لے لیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فعل کو غلط قرار دیا اگرچہ اجتہاد کی وجہ سے اسے معذور خیال کیا۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اوہ یہ توعین سود ہے۔
اس طرح مت کرو۔
‘‘ ایسا کام آئندہ مت کرنا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کام کو برقرار نہیں رکھا بلکہ اسے غلط کہہ کر مسترد کر دیا۔
(صحیح البخاري، الوکالة، حدیث: 2312 و فتح الباري: 389/13)
جنيب: اعلیٰ یا منتخب کھجوریں۔
(2)
جمع: مخلوط، اچھی اور نکمی ملی جلی۔
فوائد ومسائل: بنو عدی کے جس فرد کو آپﷺ نے بھیجا تھا، اس نے عدم علم اور ناواقفیت و جہالت کی بنا پر ایک جنس کی مختلف انواع و اقسام میں ماپ میں کمی و بیشی کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس فعل سے روکا کہ ایک جنس کی اشیاء جو خوراک سے تعلق رکھتی ہیں، ان کی اعلیٰ اور ادنیٰ قسم کا تبادلہ برابری کی صورت میں جائز ہے، یا پھر نکمی قسم کو بیچ کر، اس قیمت سے اعلیٰ قسم خریدنا ہو گا، ظاہر ہے، دوسری صورت میں ماپ یا تول کے اعتبار سے کم ہی ہو گی، لیکن یہ ربا یا سودی معاملہ نہیں ہو گا۔
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنایا، وہ «جنیب» (نامی عمدہ قسم کی) کھجور لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: ” کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح ہیں؟ “ وہ بولا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم یہ کھجور دو صاع کے بدلے ایک صاع یا تین صاع کے بدلے دو صاع لیتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایسا نہ کرو، گھٹیا اور ردی کھجوروں کو درہم (پیسوں) سے بیچ دو، [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4557]
(2) یہ حدیث صراحتاََ دلالت کرتی ہے کہ سودی کاروبار کرنا قطعاََ حرام ہے ایسا کیا ہوا سودا صحیح نہیں ہو گا۔
(3) بعض معاملات میں حرام کام کامرتکب اس وقت تک معذور سمجھائے گا جب تک اسے اس کام کی حرمت کا علم نہ ہو۔ یہ یاد رہے کہ عذر بالجہل مطلقاََ قابل قبول نہیں، تاہم بعض معاملات، جن کا شریعت مطہرہ اور عرفِ عام لحاظ رکھیں، ان میں ایسا عذر قابل قبول ہو گا۔
(4) اس حدیث مبارکہ سے خود ساختہ صوفیوں کے اس خشک زہد کا رد ہوتا ہے جو اچھی اشیاء کے استعمال سے گریز کرتے اور اپنے باطل زعم میں اسے تقویٰ سمجھتے ہیں، اپنے آپ کو مشقت میں مبتلا کرکے اسے نفس کشی کا نام دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑا عابد و زاہد بھلا کون ہو سکتا ہے؟ لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے استعمال کے لیے، ردی کھجور کے عوض اچھی اور عمدہ کھجور پسند کی ہے اور اسے خریدا ہے۔
(5) امام اور دینی و مذہبی ذمہ دار شخص کو خصوصی طور پر دین کے معاملات کو اہمیت دینی چاہیے۔ جن لوگوں کو ان کا علم نہ ہو انھیں تعلیم دینی چاہیے اور انھیں نا جائز و حرام امور سے متنبہ کر کے جائز و مباح اور حلال امور کی طرف ان کی راہنمائی کونی چاہیے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابی کی رہنمائی فرماتے ہوئے اسے حرام کام سے ہٹا کر حلال کی طرف راستہ دکھایا۔
(6) یہ حدیث ربوا بالفضل کی حرمت کی صریح دلیل ہے۔
(7) شکوک و شبہات میں مبتلا شخص کی تلاش حق میں اس وقت تک مدد کرنی چاہیے جب تک کہ اس کے لیے حق واضح نہ ہو جائے۔
(8) جنیب اعلیٰ قسم کی کھجور تھی اور ”جمع“ ردی کھجور جس میں گٹھلی نہیں ہوتی تھی۔ یا جمع سے مراد ملی جلی کھجوریں ہیں۔ کوئی کسی قسم کی کوئی کسی قسم کی جیسا کہ صدقہ و عشر میں عام ہوتا ہے۔ چونکہ خیبر میں بھی ہر قسم کی کھجوروں سے حصہ وصول کیا گیا تھا، لہٰذا وہ ملی جلی تھیں۔
ایسا ہی سونا کے بدلے میں دوسرا سونا کم وبیش لینے کی ضرورت ہے، تو پہلے سونے کو روپوں یا اسباب کے بدل بیچ ڈالے۔
پھر روپوں یا اسباب کے عوض دوسرا سونا لے لے۔
حافظ ؒ فرماتے ہیں: و في الحدیث جواز اختیارطیب الطعام و جواز الوکالة في البیع و غیرہ و فیه أن البیوع الفاسدة ترد الخ یعنی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اچھے غلے کو پسند کرنا جائز ہے اور بیع وغیرہ میں وکالت درست ہے اور یہ بھی کہ بیع فاسد کو رد کیا جاسکتا ہے۔
اس حدیث میں خیبر کا ذکر آیا ہے جو یہودیوں کی ایک بستی مدینہ شریف سے شمال مشرق میں تین چار منزل کے فاصلہ پر واقع تھی۔
اس مقام پر مدینہ کے یہودی قبائل کو ان کی مسلسل غداریوں اور فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔
اور یہاں آنے کے بعد وہ دوسرے یہودیوں کو ساتھ لے کر ہر وقت اسلام کے استیصال کے لیے تدبیریں کرتے تھے۔
اس طرح خیبر عام اشتعال اور فسادات کا مرکز بنا ہوا تھا۔
ان کی ان غلط در غلط کوششوں کو پامال کرنے اور وہاں قیام امن کے لیے آنحضرت ﷺ نے محرم 7ھ میں چودہ سو جاں نثار صحابہ کرام کے ہمراہ سفر فرمایا۔
یہود خیبر نے یہ اطلاع پاکر جملہ اقوام عرب کی طرف امداد کے لیے اپنے قاصد و سفراءدوڑائے مگر صرف بنی فزارہ ان کی امداد کے نام سے آئے۔
وہ بھی موقع پاکر مسلمانوں کے اونٹوں کے گلے لوٹ کر واپس بھاگ گئے اور یہود تنہا رہ گئے۔
بڑی خون ریز جنگ ہوئی، آخر اللہ پاک نے اپنے سچے رسول ﷺ کو فتح مبین عطا فرمائی اور یہودیوں کو شکست فاش ہوئی۔
اطراف میں بھی یہودیوں کے مختلف مواضعات تھے۔
وطیح، سلالم، فدک وغیرہ ان کے باشندوں نے خود بخود اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ کے حوالہ کر دیا اور معافی کے خواستگار ہوئے۔
آنخضرت ﷺ نے نہایت فیاضی سے سب کو معافی دے دی ان کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ میں کوئی دست اندازی نہیں کی گئی۔
ان کو پوری مذہبی آزادی بھی دے دی گئی اور زمین کی نصف پیداوار پر ان کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا گیا۔
اور وہاں سے غلہ کی وصولی کے لیے ایک شخص کو تحصیل دار مقرر کیا گیا۔
اسی کا ذکر اس حدیث میں مذکور ہے اور یہ بیع کا معاملہ بھی اس تحصیلدار صاحب سے متعلق ہے۔
مزید تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
(1)
اس حدیث کے پیش نظر سودی معاملات میں اس قسم کے حیلے کو جائز قرار دیا گیا ہے، مثلاً: ایک عمدہ سونے کے عوض کم قیراط والے سونے کو کمی بیشی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہوتو پہلے عمدہ سونے کو روپے کے عوض فروخت کردیا جائے، پھر ان کے عوض دوسرا سونا خریدا جائے۔
ہم جنس اشیاء کا کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ کرنا سود ہے، خواہ نقد بنقد ہی کیوں نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور برابر، برابر لینے دینے کا حکم دیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4081(1593)
رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کے سودے کو سود قرار دیا ہے اور اسے واپس کرنے کا حکم دیا ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ایک روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4083(1594)
حضرت بلال ؓ سے بھی اس قسم کا ایک واقعہ منقول ہے، اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افسوس! یہ تو بعینہ سود ہے آئندہ ایسا مت کرنا۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4087(1594)
ہم جنس اشیاء کی باہمی خریدوفروخت کے متعلق اس ضابطے کے حوالے سے آج کل یہ عام سوال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک جنس، مثلاً: کھجور بہتر قسم کی ہو اور دوسری کمتر کوالٹی کی ہو جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں ہے تو دونوں کو ہم مقدار رکھنا کیسے قرین انصاف ہوسکتا ہے جبکہ اسلام نے ہمیں عدل وانصاف کا حکم دیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر نوع کی کھجور یا گندم بنیادی طور پر انسان کی بھوک مٹاتی ہے، محض تنوع یا ذائقے میں فرق رکھنے کے اعتبار سے تبادلے کی گنجائش ہے لیکن بھوک مٹانے میں دونوں برابر ہیں۔
اس بنا پر تبادلہ کرتے وقت دونوں کی مقدار برابر رکھی جائے۔
عدل وانصاف کا یہی تقاضا ہے۔
اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ غذائی ضرورت کو پورا کرنے میں ایک نوع دوسری نوع سے بہتر ہے،اس لیے ان دونوں کا تبادلہ کرتے وقت فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔
عام آدمی کے پاس تو ایسا کوئی آلہ یا ترازو موجود نہیں جو عدل و انصاف کے مطابق ایک کوالٹی کے دوسری کوالٹی سے تبادلے میں دونوں کی مقداریں صحیح طور پر متعین کرسکے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ گھٹیا کوالٹی کی نقدی کے ذریعے سے قیمت طے کرلو اور اسے طے شدہ نقدی کے عوض فروخت کرو پھر اعلیٰ کوالٹی کی قیمت بھی بذریعہ نقدی طے کرلو اور اسے نقدی کے عوض خرید لو۔
اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے صحیح معنوں میں پورے ہوجائیں گے۔
کوالٹی کا فرق کتنا ہے اس کو وزن یا ماپ کے ذریعے سے متعین نہیں کیا جاسکتا، قیمت کے ذریعے سے متعین کیا جاسکتا ہے، کوالٹی کے تعین کے لیے قیمت ہی ایک غیر جانبدار اور مناسب ترین ذریعہ ہے۔
اگر قیمت کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ محض وزن میں کمی بیشی کے ذریعے سے کام چلانے کی کوشش کی جائے تو دونوں میں سے ایک فریق کا حق ضرور مارا جائے گا۔
کوالٹی کا فرق متعین کرنے کے لیے وزن کو معیار بنایا گیا تو باہمی رضامندی کے تقاضے بھی پورے نہیں ہوں گے جو صحت بیع کے لیے ضروری ہے۔
والله أعلم. (2)
صاحب تدبر قرآن نے حسب عادت اس مقام پر بھی خلط مبحث سے کام لیا ہے۔
ان کی حدیث دانی کا یہ عالم ہے کہ لکھا ہے: رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم نہیں دیا کہ کھجوروں کا مبادلہ برابر مقدار ہی میں کرنا ہوگا۔
(تدبر حدیث: 1/486)
حالانکہ اس بات کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم ایسا مت کرو بلکہ مقدار برابر رکھو یا ایک کو قیمت سے فروخت کرکے اس قیمت سے دوسری کھجوریں خرید لو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، حدیث: 7351،7350)
«. . . 394- مالك عن عبد المجيد بن سهيل عن ابن المسيب عن أبى سعيد الخدري وعن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا على خيبر فجاءه بتمر جنيب، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”أكل تمر خيبر هكذا؟“ فقال: لا والله، إنا لنأخذ الصاع من هذا بالصاعين، والصاعين بالثلاثة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”لا تفعل، بع الجمع بالدراهيم، ثم ابتع بالدراهيم جنيبا.“ . . .»
”. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر (کے علاقے) پر عامل یعنی امیر بنایا تو وہ اعلیٰ قسم کی کھجوریں لے کر آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم دو صاع کھجوریں دے کر اس قسم کی کھجوروں کا ایک صاع لیتے ہیں اور تین ساع دے کر دو ساع لیتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، عام کھجوروں کو درہموں (رقم) کے بدلے میں بیچ دو پھر رقم سے اعلی قسم کی کھجوریں خرید لو۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 513]
[وأخرجه البخاري 2201، 2202، ومسلم 95/1592، من حديث مالك به * وفي حديث يحيى بن يحيى: ”بِالدَّرَاهِمِ“]
تفقه:
➊ اگر جنس ایک ہی ہو تو تجارت میں ایک جنس دے کر اس کے بدلے میں وہی جنس کم یا زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔