حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— خرید و فروخت کے مسائل
باب شروطه وما نهي عنه منه باب: بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
حدیث نمبر: 690
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه ، أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع المضامين والملاقيح. رواه البزار ، وفي إسناده ضعف.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مضامین اور ملاقیح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے ۔ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مضامین اور ملاقیح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 690»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مضامین اور ملاقیح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 690»
تخریج:
«أخرجه البزار، كشف الأستار:2 /87.* صالح بن أبي الأخضر ضعيف وفيه علة أخري.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق اور دیگر محققین نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ اس مفہوم کی دیگر احادیث سے حدیث میں مذکور دونوں قسم کی خرید و فروخت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے‘ نیز حدیث میں مذکورہ دونوں قسم کی خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہونے کا ایک اور سبب بھی موجود ہے کہ یہ بیع مجہول اور دھوکے پر مبنی ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر ہم معنی روایات کی رو سے قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے سبل السلام میں مذکورہ حدیث کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔
«أخرجه البزار، كشف الأستار:2 /87.* صالح بن أبي الأخضر ضعيف وفيه علة أخري.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق اور دیگر محققین نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ اس مفہوم کی دیگر احادیث سے حدیث میں مذکور دونوں قسم کی خرید و فروخت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے‘ نیز حدیث میں مذکورہ دونوں قسم کی خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہونے کا ایک اور سبب بھی موجود ہے کہ یہ بیع مجہول اور دھوکے پر مبنی ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر ہم معنی روایات کی رو سے قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے سبل السلام میں مذکورہ حدیث کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 690 سے ماخوذ ہے۔