حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— خرید و فروخت کے مسائل
باب شروطه وما نهي عنه منه باب: بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
حدیث نمبر: 688
وعن أبي مسعود رضي الله تعالى عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا تشتروا السمك في الماء ، فإنه غرر» رواه أحمد ، وأشار إلى أن الصواب وقفه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پانی میں موجود مچھلی کو نہ خریدو ، کیونکہ یہ دھوکا ہے ۔ “ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور اس طرف اشارہ بھی کر دیا ہے کہ اس روایت کا موقوف ہونا قرین صواب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام`
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پانی میں موجود مچھلی کو نہ خریدو، کیونکہ یہ دھوکا ہے۔ “ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور اس طرف اشارہ بھی کر دیا ہے کہ اس روایت کا موقوف ہونا قرین صواب ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 688»
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پانی میں موجود مچھلی کو نہ خریدو، کیونکہ یہ دھوکا ہے۔ “ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور اس طرف اشارہ بھی کر دیا ہے کہ اس روایت کا موقوف ہونا قرین صواب ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 688»
تخریج:
«أخرجه أحمد:1 /388، يزيد بن أبي زياد ضعيف وعنعن.»
تشریح: 1. اس حدیث کی رو سے پانی میں موجود مچھلی کی خرید و فروخت ممنوع ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی میں صحیح طور پر معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ مچھلیوں کی تعداد و مقدار کتنی ہے‘ کونسی مچھلی ہے‘ عمدہ اور بہترین نسل کی ہے یا کم تر نسل کی‘ جسامت و ضخامت میں بڑی ہے یا چھوٹی‘ مچھلیاں ہیں یا مگرمچھ؟ جب صحیح علم ہی نہیں تو پھر فروخت کس چیز کی؟ نہ فروخت کنندہ کے قبضے میں ہے اور نہ اس کی ذاتی ملکیت‘ اگر ذاتی تالاب وغیرہ بھی ہوں تب بھی مقدار و تعداد اور تعین جنس ناممکن ہے۔
2. یہ حدیث موقوف ہے‘ نیز ضعیف بھی‘ اس لیے کہ اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے۔
اور مسیب بن رافع اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مابین ارسال ہے۔
علامہ سندھی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے۔
اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۶ /۱۹۷. ۱۹۹)
«أخرجه أحمد:1 /388، يزيد بن أبي زياد ضعيف وعنعن.»
تشریح: 1. اس حدیث کی رو سے پانی میں موجود مچھلی کی خرید و فروخت ممنوع ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی میں صحیح طور پر معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ مچھلیوں کی تعداد و مقدار کتنی ہے‘ کونسی مچھلی ہے‘ عمدہ اور بہترین نسل کی ہے یا کم تر نسل کی‘ جسامت و ضخامت میں بڑی ہے یا چھوٹی‘ مچھلیاں ہیں یا مگرمچھ؟ جب صحیح علم ہی نہیں تو پھر فروخت کس چیز کی؟ نہ فروخت کنندہ کے قبضے میں ہے اور نہ اس کی ذاتی ملکیت‘ اگر ذاتی تالاب وغیرہ بھی ہوں تب بھی مقدار و تعداد اور تعین جنس ناممکن ہے۔
2. یہ حدیث موقوف ہے‘ نیز ضعیف بھی‘ اس لیے کہ اس کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے۔
اور مسیب بن رافع اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مابین ارسال ہے۔
علامہ سندھی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن معناً صحیح ہے۔
اور یہی بات اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۶ /۱۹۷. ۱۹۹)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 688 سے ماخوذ ہے۔