حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— خرید و فروخت کے مسائل
باب شروطه وما نهي عنه منه باب: بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
حدیث نمبر: 680
وعن معمر بن عبد الله رضي الله تعالى عنه ، عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا يحتكر إلا خاطىء» . رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” خطاکار کے سوا ذخیرہ اندوزی کوئی نہیں کرتا ۔ “ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام`
سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” خطاکار کے سوا ذخیرہ اندوزی کوئی نہیں کرتا۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 680»
سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” خطاکار کے سوا ذخیرہ اندوزی کوئی نہیں کرتا۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 680»
تخریج:
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب تحريم الاحتكار في الأقوات، حديث:1605.»
تشریح: 1. اس حدیث میں ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے۔
وہ اس طرح کہ ایک آدمی کوئی چیز خرید کر ذخیرہ کر لے کہ جب نرخ بڑھیں گے تو اس وقت اسے فروخت کروں گا‘ حالانکہ عوام میں اس کی بہت مانگ ہو۔
2. حدیث کے الفاظ عام ہیں مگر جمہور نے اس سے مراد صرف انسانوں اور حیوانوں کی خور و نوش کی چیزیں لی ہیں۔
دوسری اشیاء اس ممانعت سے مستثنیٰ ہیں۔
3. احتکار ایسی شکل میں تو بلاشبہ حرام ہے کہ اشیائے صرف کی قلت پیدا ہو جائے اور جن کے پاس یہ چیزیں ہوں وہ انھیں چھپا کر رکھ لیں۔
4. احتکار تجارت پیشہ حضرات کے لیے حرام ہے۔
5. زمیندار اپنی پیداوار روک لے تو اس کے لیے گنجائش ہے۔
مگر جب غلے کی قلت شدت اختیار کر جائے تو پھر اس کے لیے بھی غلے کو روکنا جائز نہیں ہوگا۔
راویٔ حدیث: «معمر بن عبداللّٰہ بن نافع بن نضلہ بن حرثان العدوی رضی اللہ عنہ» یہ ابن ابی معمر ہیں۔
بڑے مرتبے کے صحابی اور قدیم الاسلام ہیں۔
ہجرت حبشہ کی اور مدینہ کی طرف ہجرت میں ذرا تاخیر ہوئی‘ پھر مدینہ کی جانب بھی ہجرت کی اور وہیں سکونت اختیار کی۔
«أخرجه مسلم، المساقاة، باب تحريم الاحتكار في الأقوات، حديث:1605.»
تشریح: 1. اس حدیث میں ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے۔
وہ اس طرح کہ ایک آدمی کوئی چیز خرید کر ذخیرہ کر لے کہ جب نرخ بڑھیں گے تو اس وقت اسے فروخت کروں گا‘ حالانکہ عوام میں اس کی بہت مانگ ہو۔
2. حدیث کے الفاظ عام ہیں مگر جمہور نے اس سے مراد صرف انسانوں اور حیوانوں کی خور و نوش کی چیزیں لی ہیں۔
دوسری اشیاء اس ممانعت سے مستثنیٰ ہیں۔
3. احتکار ایسی شکل میں تو بلاشبہ حرام ہے کہ اشیائے صرف کی قلت پیدا ہو جائے اور جن کے پاس یہ چیزیں ہوں وہ انھیں چھپا کر رکھ لیں۔
4. احتکار تجارت پیشہ حضرات کے لیے حرام ہے۔
5. زمیندار اپنی پیداوار روک لے تو اس کے لیے گنجائش ہے۔
مگر جب غلے کی قلت شدت اختیار کر جائے تو پھر اس کے لیے بھی غلے کو روکنا جائز نہیں ہوگا۔
راویٔ حدیث: «معمر بن عبداللّٰہ بن نافع بن نضلہ بن حرثان العدوی رضی اللہ عنہ» یہ ابن ابی معمر ہیں۔
بڑے مرتبے کے صحابی اور قدیم الاسلام ہیں۔
ہجرت حبشہ کی اور مدینہ کی طرف ہجرت میں ذرا تاخیر ہوئی‘ پھر مدینہ کی جانب بھی ہجرت کی اور وہیں سکونت اختیار کی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 680 سے ماخوذ ہے۔