حدیث نمبر: 673
وعن أنس رضي الله تعالى عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن المحاقلة ،‏‏‏‏ والمخاضرة ،‏‏‏‏ والملامسة ،‏‏‏‏ والمنابذة ،‏‏‏‏ والمزابنة. رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ‘ مخاضرہ ‘ ملامہ ‘ منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ ( بخاری )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 673
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع المخاضرة،حديث:2207، 2208.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2207

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2207 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2207. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذه اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2207]
حدیث حاشیہ: حافظ ؒ فرماتے ہیں: و المراد بیع الثمار و الحبوب قبل أن یبدو صلاحها۔
یعنی مخاضرہ کے معنے پکنے سے پہلے ہی فصل کو کھیت میں بیچنا ہے اور یہ ناجائز ہے۔
محاقلہ کا مفہوم بھی یہی ہے۔
دیگر واردہ اصطلاحات کے معانی ان کے مقامات پر مفصل بیان ہو چکے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2207 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2207 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2207. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذه اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2207]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے خریدوفروخت کی چند ایک قسموں سے منع فرمایا ہے جن میں نقصان یا دھوکے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
ان کی تفصیل یہ ہے: محاقلہ، یہ حقل سے مشتق ہے جس کے معنی کھیتی کے ہیں۔
اس سے مراد یہ ہے کہ خوشۂ گندم کی بیع کھلی گندم سے کی جائے۔
یہ اس لیے منع ہے کہ اس میں مساوات کا پتہ نہیں چلتا۔
مخاضرہ کا لفظ خضرہ سے ہے جس کے معنی کچی کھیتی یا کچا پھل ہیں، یعنی پھلوں اور دانوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے خریدوفروخت کرنا، البتہ حیوانات کے چارے کے لیے کچی فصل فروخت کی جاسکتی ہے۔
اسی طرح گاجر، مولی، شلجم اور پیاز وغیرہ کو زمین کے اندر فروخت کرنا جائز ہے۔
(2)
واضح رہے کہ محاقلہ اور مخاضرہ دونوں ایک دوسرے کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔
ملامسہ اور منابذہ کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے۔
کپڑے کے تھان پر صرف ہاتھ رکھنے سے بیع پختہ ہوجائے،جس کے متعلق علم نہ ہو کہ سوتی ہے یا ریشمی، اسی طرح محض کسی چیز کو پھینک دینے سے بیع پختہ کرلینا۔
لین دین کی ان اقسام میں جوا پایا جاتا ہے، پھر ان میں نقصان اور دھوکے دونوں کا اندیشہ رہتا ہے، اس لیے منع کردیا گیا۔
مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجوریں اور بیل پر لگے انگور خشک کھجور یا کشمش کے عوض خریدنا،یہ بھی منع ہے، البتہ درخت پر لگی ہوئی کھجوریں عرایا کی صورت میں پختہ کھجوروں کے عوض فروخت کی جاسکتی ہیں جیسا کہ ہم پہلے اس کی وضاحت کر آئے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2207 سے ماخوذ ہے۔