حدیث نمبر: 669
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما ،‏‏‏‏ قال: ابتعت زيتا في السوق ،‏‏‏‏ فلما استوجبته لقيني رجل فأعطاني به ربحا حسنا ،‏‏‏‏ فأردت أن أضرب على يد الرجل ،‏‏‏‏ فأخذ رجل من خلفي بذراعي فالتفت فإذا هو زيد بن ثابت ،‏‏‏‏ فقال: لا تبعه حيث ابتعته ،‏‏‏‏ حتى تحوزه إلى رحلك ،‏‏‏‏ فإن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى أن تباع السلع حيث تبتاع ،‏‏‏‏ حتى يحوزها التجار إلى رحالهم. رواه أحمد وأبو داود ،‏‏‏‏ واللفظ له ،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` میں نے بازار سے روغن ( زیتون ) خریدا ۔ جب میرا سودا پکا اور پختہ ہو گیا تو مجھے ایک آدمی ملا جس نے مجھے اچھا منافع دینے کی پیشکش کی ۔ میں نے اس آدمی سے سودا طے کرنے کا ارادہ کر لیا ، اتنے میں پیچھے سے کسی نے میرا بازو پکڑ لیا ۔ میں نے جب مڑ کر دیکھا تو وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے ۔ انھوں نے کہا کہ جس جگہ سے تم نے سودا خریدا ہے ، اسی جگہ پر اسے اس وقت تک فروخت نہیں کرنا جب تک اسے اٹھا کر اپنے گھر نہ لے جاؤ ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں سے چیزیں خریدی جائیں وہیں پر فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ، جب تک تاجر و سوداگر حضرات اس خریدے ہوئے مال و اسباب کو اپنے گھر نہ لے جائیں ۔ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں ۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 669
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في بيع الطعام قبل أن يستوفيَ، حديث:3499، وابن حبان (موارد)، حديث:1120، والحاكم:2 /40.»