حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— خرید و فروخت کے مسائل
باب شروطه وما نهي عنه منه باب: بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
حدیث نمبر: 668
وعنه رضي الله عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيع العربان. رواه مالك ، قال: بلغني عن عمرو بن شعيب به.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ ہی نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا ۔ اسے مالک نے روایت کیا ہے ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے عمرو بن شعیب سے یہ روایت پہنچی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام`
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ ہی نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا۔ اسے مالک نے روایت کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے عمرو بن شعیب سے یہ روایت پہنچی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 668»
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ ہی نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا۔ اسے مالک نے روایت کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے عمرو بن شعیب سے یہ روایت پہنچی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 668»
تخریج:
«أخرجه مالك في الموطأ:2 /609، وانظر سنن ابن ماجه، التجارات، حديث:2192 بتحقيقي، وللحديث شواهد.»
تشریح: امیر صنعانی رحمہ اللہ بیع عربان کی بابت بلوغ المرام کی شرح سبل السلام میں یوں لکھتے ہیں: ’’اس بیع کے جواز میں فقہاء کا اختلاف ہے۔
امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ نے منع کی حدیث کی وجہ سے اسے باطل قرار دیا ہے اور اس وجہ سے بھی باطل قرار دیا ہے کہ اس میں ناجائز شرط اور دھوکا ہے اور یہ کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھانے میں شامل ہے۔
‘‘ ہمیں یہی رائے صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ بیع فسخ ہونے کی صورت میں بیچنے والا جو رقم وصول کرتا ہے‘ اس کے عوض وہ خریدار کو کوئی مال یا فائدہ مہیا نہیں کرتا‘ اور بغیر معاوضے کے کسی کا مال لے لینا جائز نہیں‘ نیز بیعانہ کی یہ شرط اس لیے لگائی جاتی ہے کہ خریدار خریدی ہوئی چیز واپس نہ کر دے‘ یہ نیکی سے پہلو تہی ہے جسے مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا‘ جبکہ احادیث میں خریدی ہوئی چیز کے واپس لینے کی فضیلت ثابت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مسلمان کی بیع واپس کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔
‘‘ (سنن أبي داود‘ البیوع‘ باب في فضل الإقالۃ‘ حدیث:۳۴۶۰) اس روایت کو شیخ البانی رحمہ اللہ اور مسند احمد کے محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھیے: (إرواء الغلیل‘ رقم:۱۳۳۴‘ والصحیحۃ‘ رقم:۲۶۱۴‘ والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۲ /۴۰۱‘ ۴۰۲)
«أخرجه مالك في الموطأ:2 /609، وانظر سنن ابن ماجه، التجارات، حديث:2192 بتحقيقي، وللحديث شواهد.»
تشریح: امیر صنعانی رحمہ اللہ بیع عربان کی بابت بلوغ المرام کی شرح سبل السلام میں یوں لکھتے ہیں: ’’اس بیع کے جواز میں فقہاء کا اختلاف ہے۔
امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ نے منع کی حدیث کی وجہ سے اسے باطل قرار دیا ہے اور اس وجہ سے بھی باطل قرار دیا ہے کہ اس میں ناجائز شرط اور دھوکا ہے اور یہ کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھانے میں شامل ہے۔
‘‘ ہمیں یہی رائے صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ بیع فسخ ہونے کی صورت میں بیچنے والا جو رقم وصول کرتا ہے‘ اس کے عوض وہ خریدار کو کوئی مال یا فائدہ مہیا نہیں کرتا‘ اور بغیر معاوضے کے کسی کا مال لے لینا جائز نہیں‘ نیز بیعانہ کی یہ شرط اس لیے لگائی جاتی ہے کہ خریدار خریدی ہوئی چیز واپس نہ کر دے‘ یہ نیکی سے پہلو تہی ہے جسے مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا‘ جبکہ احادیث میں خریدی ہوئی چیز کے واپس لینے کی فضیلت ثابت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مسلمان کی بیع واپس کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔
‘‘ (سنن أبي داود‘ البیوع‘ باب في فضل الإقالۃ‘ حدیث:۳۴۶۰) اس روایت کو شیخ البانی رحمہ اللہ اور مسند احمد کے محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھیے: (إرواء الغلیل‘ رقم:۱۳۳۴‘ والصحیحۃ‘ رقم:۲۶۱۴‘ والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۲ /۴۰۱‘ ۴۰۲)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 668 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2193 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بیعانہ کا حکم۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عربان کی بیع) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبداللہ (ابن ماجہ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: (عربان یہ ہے کہ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2193]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عربان کی بیع) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبداللہ (ابن ماجہ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: (عربان یہ ہے کہ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2193]
اردو حاشہ:
فائدہ: امیر صنعانی رحمہ اللہ سب السلام شرح بلوغ المرام میں اس بیع کی بابت یوں لکھتے ہیں: ’’اس بیع کے جواز میں فقہاء کا اختلاف ہے۔
امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ نے منع کی حدیث کی وجہ سے اسے باطل قرار دیا ہے، اور اس وجہ سے بھی (باطل قرار دیا ہے)
کہ اس میں ناجائز شرط اور دھوکا ہے۔
اور یہ کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھانے میں شامل ہے۔‘‘
یہ رائے صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ بیع فسخ ہونے کی صورت میں بیچنے والا جو رقم وصول کرتا ہے، اس کے عوض وہ خریدار کو کوئی مال یا فائدہ مہیا نہیں کرتا۔
اور بغیر معاوضے کے کسی کا مال لے لینا جائز نہیں، علاوہ ازیں بیع واپس کر لینا ثواب ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 2199)
اور بیعانہ کی شرط اس لیے لگائی جاتی ہے کہ خریدار خریدی ہوئی چیز واپس نہ کردے، یہ نیکی سے پہلو تہی ہے جسے مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فائدہ: امیر صنعانی رحمہ اللہ سب السلام شرح بلوغ المرام میں اس بیع کی بابت یوں لکھتے ہیں: ’’اس بیع کے جواز میں فقہاء کا اختلاف ہے۔
امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ نے منع کی حدیث کی وجہ سے اسے باطل قرار دیا ہے، اور اس وجہ سے بھی (باطل قرار دیا ہے)
کہ اس میں ناجائز شرط اور دھوکا ہے۔
اور یہ کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھانے میں شامل ہے۔‘‘
یہ رائے صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ بیع فسخ ہونے کی صورت میں بیچنے والا جو رقم وصول کرتا ہے، اس کے عوض وہ خریدار کو کوئی مال یا فائدہ مہیا نہیں کرتا۔
اور بغیر معاوضے کے کسی کا مال لے لینا جائز نہیں، علاوہ ازیں بیع واپس کر لینا ثواب ہے۔ (دیکھیے، حدیث: 2199)
اور بیعانہ کی شرط اس لیے لگائی جاتی ہے کہ خریدار خریدی ہوئی چیز واپس نہ کردے، یہ نیکی سے پہلو تہی ہے جسے مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2193 سے ماخوذ ہے۔