حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— خرید و فروخت کے مسائل
باب شروطه وما نهي عنه منه باب: بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
حدیث نمبر: 648
عن رفاعة بن رافع رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم سئل: أي الكسب أطيب؟قال : « عمل الرجل بيده ، وکل بيع مبرور» رواه البزار وصححه الحاكم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی کمائی پاکیزہ تر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” آدمی کی اپنے ہاتھ کی کمائی اور ہر قسم کی تجارت جو دھوکہ اور فریب سے پاک ہو ۔ “ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام`
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی کمائی پاکیزہ تر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” آدمی کی اپنے ہاتھ کی کمائی اور ہر قسم کی تجارت جو دھوکہ اور فریب سے پاک ہو۔ “ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 648»
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی کمائی پاکیزہ تر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” آدمی کی اپنے ہاتھ کی کمائی اور ہر قسم کی تجارت جو دھوکہ اور فریب سے پاک ہو۔ “ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 648»
تخریج:
«أخرجه البزار، كشف الأستار:2 /83، والحاكم:2 /10 وسنده ضعيف، المسعودي اختلط، وللحديث شواهد ضعيفة عند الحاكم وغيره.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
مسند احمد کے محققین نے اس پر سیرحاصل بحث کرتے ہوئے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے اور محقق عصر شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
مذکورہ محققین کے تفصیلی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت دیگر شواہد اور متابعات کی وجہ سے قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲۵ /۱۵۷. ۱۵۹‘ والصحیحۃ للألباني‘ رقم:۶۰۷)
«أخرجه البزار، كشف الأستار:2 /83، والحاكم:2 /10 وسنده ضعيف، المسعودي اختلط، وللحديث شواهد ضعيفة عند الحاكم وغيره.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
مسند احمد کے محققین نے اس پر سیرحاصل بحث کرتے ہوئے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے اور محقق عصر شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
مذکورہ محققین کے تفصیلی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت دیگر شواہد اور متابعات کی وجہ سے قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲۵ /۱۵۷. ۱۵۹‘ والصحیحۃ للألباني‘ رقم:۶۰۷)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 648 سے ماخوذ ہے۔