حدیث نمبر: 644
وعن ابن الزبير رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « صلاة في مسجدي هذا ،‏‏‏‏ أفضل من ألف صلاة فيما سواه ،‏‏‏‏ إلا المسجد الحرام ،‏‏‏‏ وصلاة في المسجد الحرام ،‏‏‏‏ أفضل من صلاة في مسجدي هذا بمائة صلاة ». رواه أحمد وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” میری اس مسجد ( مسجدنبوی ) میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز ادا کرنے کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ ہے ۔ بجز مسجد الحرام کے اور مسجد الحرام میں ایک نماز کی ادائیگی میری اس مسجد میں سو نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔ “ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 644
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه أحمد:4 /5، وابن حبان(موارد)، حديث:1027.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " میری اس مسجد (مسجدنبوی) میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز ادا کرنے کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ ہے۔ بجز مسجد الحرام کے اور مسجد الحرام میں ایک نماز کی ادائیگی میری اس مسجد میں سو نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ " اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 644]
644فوائد و مسائل:
اس حدیث میں مسجد نبوی اور بیت اللہ میں نماز پڑھنے کا ثواب مذکور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کی طرف لفظ «هذا» سے جو اشارہ فرمایا ہے اس سے ظاہری طور پر تو یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ جتنی مسجد عہد نبوی میں تھی اس میں ایک نماز کا ثواب دوسری مساجد میں ایک ہزار نماز سے افضل ہے۔ بعد کے ادوار میں جو اضافے اور وسعت ہوئی ہے وہ گویا اس میں شامل نہیں مگر صحیح بات یہی ہے کہ اضافہ شدہ حصہ بھی چونکہ اصل مسجد نبوی کے ساتھ ملحق ہے، اس لیے وہ بھی مسجد نبوی کے حکم میں ہے اور اس میں بھی ثواب اسی قدر ملے گا جو حدیث میں بیان ہوا ہے۔ «والله اعلم»

راوئ حدیث:
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما، ان کی کنیت ابوبکر اور نام عبداللہ بن زبیر بن عوام ہے۔ قریش کے قبیلہ اسد سے ہیں، اس لیے قرشی اسدی کہلائے۔ ان کی والدہ محتر مہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہجرت مدینہ کے وقت حمل سے تھیں۔ قباء پہنچتے ہی ابن زبیر کی ولادت ہو گئی۔ ہجرت کے بعد پیدا ہونے یہ اہل اسلام کا پہلا بچہ تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بکثرت نفلی نمازیں پڑھتے۔ بڑے جسیم اور مضبوط گرفت کے مالک تھے۔ فصیح اللسان تھے۔ حق و صداقت کو قبول کرنے والے اور رشتہ داروں کے دکھ درد کو بانٹنے والے تھے۔ 64 ہجری میں یزید بن معاویہ کی وفات کے بعد ان کی بیعت کی گئی۔ حجاز، عراق، یمن، مصر اور اکثر علاقہ شام پر یہ غالب آئے۔ حجاج بن یوسف ثقفی نے مکہ میں ان کا محاصرہ کر لیا اور انہیں جما دی الثانیہ 73 ہجری میں پھانسی پر لٹکا کر شہید کر دیا گیا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 644 سے ماخوذ ہے۔