حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 643
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: أمر الناس أن يكون آخرعهدهم بالبيت إلا أنه خفف عن الحائض. متفق عليه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورتوں کے لئے تخفیف کر دی گئی ہے ۔ ( بخاری و مسلم )
حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 643
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1755 | صحيح مسلم: 1327 | صحيح مسلم: 1328 | سنن ابي داود: 2002 | سنن ابن ماجه: 3070 | معجم صغير للطبراني: 455 | مسند الحميدي: 511 | مسند الحميدي: 512
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورتوں کے لئے تخفیف کر دی گئی ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 643]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورتوں کے لئے تخفیف کر دی گئی ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 643]
643فائدہ:
یہ طواف وداع ہے جو سب مناسک حج کے اتمام و اختتام پر کیا جاتا ہے۔ یہ طواف امام مالک رحمہ الله کے سوا سب کے نزدیک واجب ہے، اگر کسی وجہ سے رہ جائے تو دم دینا (جانور ذبح کرنا) پڑتا ہے مگر حائضہ عورتوں کو رخصت ہے۔
یہ طواف وداع ہے جو سب مناسک حج کے اتمام و اختتام پر کیا جاتا ہے۔ یہ طواف امام مالک رحمہ الله کے سوا سب کے نزدیک واجب ہے، اگر کسی وجہ سے رہ جائے تو دم دینا (جانور ذبح کرنا) پڑتا ہے مگر حائضہ عورتوں کو رخصت ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 643 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1755 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1755. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1755]
حدیث حاشیہ: کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا فتوی حائضہ اور نفساءعورتوں کے متعلق پہلے یہ تھا کہ وہ حیض اور نفاس کا خون بند ہونے کا انتظار کریں اور پاک ہونے پر طواف وداع کرکے رخصت ہوں، مگر جب ان کو نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنے اس مسلک سے رجوع کر لیا۔
اس سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام ؓ کا عام دستور العمل یہی تو تھا کہ وہ حدیث صحیح کے سامنے اپنے خیالات کو چھوڑ دیا کرتے تھے اور اپنے مسلک سے رجوع کر لیا کرتے تھے، نہ جیسا کہ بعد کے مقلدین جامدین کا دستور بن گیا ہے کہ حدیث صحیح جو ان کے مزعومہ مسلک کے خلاف ہو اسے بڑے بے باکی کے ساتھ رد کردیتے ہیں اوراپنے مزعومہ امام کے قول کو ہرحال میں ترجیح دیتے ہیں۔
آیت کریمہ ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ (التوبة: 31)
کے مصداق درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث مرحوم نے فرمایا کہ احادیث صحیحہ کو رد کرکے اپنے امام کے قول کو ترجیح دینے والے اس دن کیا جواب دیں گے جس دن دربار الٰہی میں پیشی ہوگی۔
(حجة اللہ البالغة)
اس سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرام ؓ کا عام دستور العمل یہی تو تھا کہ وہ حدیث صحیح کے سامنے اپنے خیالات کو چھوڑ دیا کرتے تھے اور اپنے مسلک سے رجوع کر لیا کرتے تھے، نہ جیسا کہ بعد کے مقلدین جامدین کا دستور بن گیا ہے کہ حدیث صحیح جو ان کے مزعومہ مسلک کے خلاف ہو اسے بڑے بے باکی کے ساتھ رد کردیتے ہیں اوراپنے مزعومہ امام کے قول کو ہرحال میں ترجیح دیتے ہیں۔
آیت کریمہ ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ (التوبة: 31)
کے مصداق درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث مرحوم نے فرمایا کہ احادیث صحیحہ کو رد کرکے اپنے امام کے قول کو ترجیح دینے والے اس دن کیا جواب دیں گے جس دن دربار الٰہی میں پیشی ہوگی۔
(حجة اللہ البالغة)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1755 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1755 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1755. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں تمہارا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1755]
حدیث حاشیہ:
(1)
انسان جب مناسک حج سے فارغ ہو تو اسے چاہیے کہ طواف وداع کرے، اس کے بعد وہ اپنے گھر روانہ ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ ہی سے روایت ہے کہ لوگ حج سے فراغت کے بعد جہاں سے چاہتے اپنے گھروں کو واپس آ جاتے۔
رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جب تک بیت اللہ کا طواف نہ کر لو اپنے گھروں کو نہ جاؤ۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3219(1327) (2)
اس حدیث کے پیش نظر طواف وداع واجب ہے، البتہ حائضہ عورت سے تخفیف کر دی گئی ہے کہ وہ اس کے بغیر اپنے گھر جا سکتی ہے جیسا کہ آئندہ اس کی وضاحت ہوگی۔
(1)
انسان جب مناسک حج سے فارغ ہو تو اسے چاہیے کہ طواف وداع کرے، اس کے بعد وہ اپنے گھر روانہ ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ ہی سے روایت ہے کہ لوگ حج سے فراغت کے بعد جہاں سے چاہتے اپنے گھروں کو واپس آ جاتے۔
رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جب تک بیت اللہ کا طواف نہ کر لو اپنے گھروں کو نہ جاؤ۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3219(1327) (2)
اس حدیث کے پیش نظر طواف وداع واجب ہے، البتہ حائضہ عورت سے تخفیف کر دی گئی ہے کہ وہ اس کے بغیر اپنے گھر جا سکتی ہے جیسا کہ آئندہ اس کی وضاحت ہوگی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1755 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1328 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آخری وقت میں بیت اللہ کا طواف کریں، لیکن حیض والی عورت کو سہولت دی گئی ہے، (وہ پہلے جاسکتی ہے)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3220]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: الوداعی طواف جسے حاجی مکہ معظمہ سے واپسی کے وقت کرتا ہے واجب ہے، یعنی اگر کوئی شخص طواف نہیں کرے گا تو اس کے ذمہ ایک جانور کی قربانی ضروری ہے، لیکن حائضہ عورت کو اجازت ہے اگر اس نے طواف افاضہ کر لیا ہے تو وہ طواف وداع کیے بغیر روانہ ہو سکتی ہے، جمہور صحابہ و آئمہ، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، شافعی رحمۃ اللہ علیہ احمد رحمۃ اللہ علیہ، اور محدثین کا یہی موقف ہے لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور داؤد رحمۃ اللہ علیہ ظاہری کے نزدیک طواف وداع سنت ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1328 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2002 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مکہ سے نکلنے سے پہلے خانہ کعبہ کا الوداعی طواف۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2002]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2002]
´مکہ سے نکلنے سے پہلے خانہ کعبہ کا الوداعی طواف۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2002]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے (مکہ سے) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف (طواف وداع) ہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2002]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2002 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 511 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
511- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ کسی بھی جگہ سے واپس چلے جایا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص اس وقت تک ہرگز واپس نہ جائے جب تک وہ سب سے آخر میں بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا۔“ سفیان کہتے ہیں: اس بارے میں اس روایت سے زیادہ اچھی حدیث میں نے نہیں سنی جو سلیمان نے ہمیں سنائی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:511]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حاجی حضرات کو طواف وداع کر کے واپس گھر جانا چاہیے، حائضہ اور نفاس والی عورت اس سے مستثنیٰ ہے، نیز دیکھیں [مسند حميدي: 512]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حاجی حضرات کو طواف وداع کر کے واپس گھر جانا چاہیے، حائضہ اور نفاس والی عورت اس سے مستثنیٰ ہے، نیز دیکھیں [مسند حميدي: 512]
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 511 سے ماخوذ ہے۔