حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 638
وعن سراء بنت نبهان رضي الله عنها قالت : خطبنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يوم الرؤوس فقال : « أليس هذا أوسط أيام التشريق ؟ » الحديث. رواه أبو داود بإسناد حسن.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ سراء بنت نبھان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سروں والے دن خطاب فرمایا اور فرمایا ” کیا یہ دن ایام تشریق کا درمیانہ دن نہیں ہے ؟ “ اور ساری حدیث ذکر کی ۔ اسے ابوداؤد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدہ سراء بنت نبھان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سروں والے دن خطاب فرمایا اور فرمایا ” کیا یہ دن ایام تشریق کا درمیانہ دن نہیں ہے؟ “ اور ساری حدیث ذکر کی۔ اسے ابوداؤد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 638]
سیدہ سراء بنت نبھان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سروں والے دن خطاب فرمایا اور فرمایا ” کیا یہ دن ایام تشریق کا درمیانہ دن نہیں ہے؟ “ اور ساری حدیث ذکر کی۔ اسے ابوداؤد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 638]
638لغوی تشریح:
«يوم الرءُوس» اس میں سب کا اتفاق ہے کہ «يوم الرووس» سے ذوالحجہ کی گیارہ تاریخ مراد ہے۔ اس کا نام ”یوم الرووس“ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس روز کثرت سے قربانی کی جانوروں کے سر ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔
«اوسط ايام التشريق» سبل السلام میں ہے کہ «اوسط» کی لفظ میں دو احتمال ہیں: ہو سکتا ہے کہ ”اوسط“ بمعنی افضل ہو اور یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ یہ چونکہ طرفین (دس ذوالحجہ اور بارہ ذوالحجہ) کے درمیان میں واقع ہے، اس لئے یہ ”اوسط“ ہے اور اس قول کے مطابق یوم النحر ایام تشریق میں شامل ہے، مگر تقریباً تمام علماء کی رائے یہ ہے کہ ایام تشریق سے مراد قربانی کے دن کو چھوڑ کر تین دن ہیں، کیونکہ وہاں لوگ ان تین ایام میں قربانی کے گوشت کو خشک کرنے کے لیے دھوپ میں رکھتے تھے اور گوشت خشک کرنے کے لیے دھوپ میں رکھنے کو عربی زبان میں ”تشریق“ کہتے ہیں، اس لیے ان ایام کا نام ایام تشریق ہے۔
راوئ حدیث:
حضرت سراء بنت نبہاں رضی اللہ عنہا، «سراء» کے ”سین“ پر فتحہ ”را“ پر فتحہ و تشدید اور آخر میں الف ممدودہ ہے۔ «نبهان» کے ”نون“ پر فتحہ اور ”فا“ ساکن ہے۔ قبیلہ غنو سے تھیں۔ ربیعہ عبدالرحمٰن نے ان سے روایت بیان کی ہے۔
«يوم الرءُوس» اس میں سب کا اتفاق ہے کہ «يوم الرووس» سے ذوالحجہ کی گیارہ تاریخ مراد ہے۔ اس کا نام ”یوم الرووس“ اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس روز کثرت سے قربانی کی جانوروں کے سر ا کٹھے ہو جاتے ہیں۔
«اوسط ايام التشريق» سبل السلام میں ہے کہ «اوسط» کی لفظ میں دو احتمال ہیں: ہو سکتا ہے کہ ”اوسط“ بمعنی افضل ہو اور یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ یہ چونکہ طرفین (دس ذوالحجہ اور بارہ ذوالحجہ) کے درمیان میں واقع ہے، اس لئے یہ ”اوسط“ ہے اور اس قول کے مطابق یوم النحر ایام تشریق میں شامل ہے، مگر تقریباً تمام علماء کی رائے یہ ہے کہ ایام تشریق سے مراد قربانی کے دن کو چھوڑ کر تین دن ہیں، کیونکہ وہاں لوگ ان تین ایام میں قربانی کے گوشت کو خشک کرنے کے لیے دھوپ میں رکھتے تھے اور گوشت خشک کرنے کے لیے دھوپ میں رکھنے کو عربی زبان میں ”تشریق“ کہتے ہیں، اس لیے ان ایام کا نام ایام تشریق ہے۔
راوئ حدیث:
حضرت سراء بنت نبہاں رضی اللہ عنہا، «سراء» کے ”سین“ پر فتحہ ”را“ پر فتحہ و تشدید اور آخر میں الف ممدودہ ہے۔ «نبهان» کے ”نون“ پر فتحہ اور ”فا“ ساکن ہے۔ قبیلہ غنو سے تھیں۔ ربیعہ عبدالرحمٰن نے ان سے روایت بیان کی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 638 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1953 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´منیٰ میں خطبہ کس دن ہو؟`
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں (جس میں اصنام ہوتے تھے)، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ (ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ) کو خطاب کیا اور پوچھا: ” یہ کون سا دن ہے؟ “، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ” کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1953]
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں (جس میں اصنام ہوتے تھے)، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ (ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ) کو خطاب کیا اور پوچھا: ” یہ کون سا دن ہے؟ “، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ” کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1953]
1953. اردو حاشیہ: ➊ عید الاضحی ٰ (دس ذوالحجہ) کے بعد تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں۔ تشریق کے معنی ہیں، گوشت کے ٹکڑے کر کے دھوپ میں خشک کرنا۔ پہلا دن یوم القراء (نمعنی قرار) اور دوسرا دن یوم لرؤوس کہلاتا ہے۔ یعنی سریوں والا دن کہ وہ قربانیوں کی سریاں پکا کر کھاتے تھے۔ اور تیسرے دن کو یو م النفر (ورانگی کا دن) کہتے ہیں۔
➋ اس موقع پر امام حج کے لیے خطبہ دینا مستحب ہے جیسے کہ رسو ل اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ حسب موقع اہم اہم مسائل کی تذکیر کی جانی چاہیے۔
➋ اس موقع پر امام حج کے لیے خطبہ دینا مستحب ہے جیسے کہ رسو ل اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ حسب موقع اہم اہم مسائل کی تذکیر کی جانی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1953 سے ماخوذ ہے۔