حدیث نمبر: 634
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « ليس على النساء حلق وإنما يقصرن ». رواه أبو داود بإسناد حسن.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” عورتوں کے لیے منڈوانا نہیں بلکہ ان کے لیے صرف بال ترشوانا ہے ۔ “ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 634
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، المناسك، باب الحلق والتقصير، حديث:1985.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1984 | سنن ابي داود: 1985

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے لیے منڈوانا نہیں بلکہ ان کے لیے صرف بال ترشوانا ہے۔ اسے ابوداؤد نے حسن سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 634]
634فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین کو سر کے بال منڈوانے نہیں بلکہ صرف کترانے چاہییں اور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے بال کترانا ہی مشروع ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 634 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1985 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بال منڈانے اور کٹوانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف «تقصير» (بال کٹانا) ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1985]
1985. اردو حاشیہ: عورتوں کے لئے بال کترنا بھی اسی حد تک ہے کہ شرعی حکم پرعمل ہوجائے۔ورنہ مردوں کی مشابہت کی حد تک پہنچنا حرام ہے۔ایسے ہی سر منڈانا بھی ناجائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1985 سے ماخوذ ہے۔