حدیث نمبر: 614
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أنه كان إذا طاف بالبيت الطواف الأول خب ثلاثا ومشى أربعا. وفي رواية: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا طاف في الحج أو العمرة أول ما يقدم فإنه يسعى ثلاثة أطواف بالبيت ويمشي أربعة. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما` جب بھی بیت اللہ کا طواف قدوم ( پہلا طواف ) کرتے تو اس کے پہلے تین چکروں میں پہلوانوں کی سی چال چلتے اور ( باقی ) چار میں آہستہ چلتے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ) میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج یا عمرہ کے لئے بھی جب طواف قدوم کیا تو اس کے پہلے تین چکر دوڑ کر لگائے اور باقی چار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ چال چلتے ۔ ( متفق علیہ )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 614
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، الحج، باب استلام الحجر الأسود، حديث:1603، ومسلم، الحج، باب استحباب الرمل في الطواف والعمرة، حديث:1261.»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1644 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1644. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ پہلا طواف کرتے تو پہلے تین چکروں میں دوڑتے اور باقی چار میں معمول کے مطابق چلتے۔ اور جب صفا مروہ کی سعی کرتے تو نالے کے نشیب میں دوڑتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میں نے حضرت نافع ؒ سے پوچھا کہ حضرت ابن عمر ؓ جب رکن یمانی کے پاس پہنچتی تو کیا حسب معمول چلتے تھے؟انھوں نے کہا کہ نہیں، البتہ اگر حجر اسود کے پاس ہجوم ہوتا تو آہستہ چلتے کیونکہ اس کااستلام کیے بغیر اس کو نہیں چھوڑتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1644]
حدیث حاشیہ: بنی عباد کا گھر اور بنی ابی الحسین کا کوچہ اس زمانہ میں مشہورہوگا۔
اب حاجیوں کی شناخت کے لئے دوڑنے کے مقام میں دوسبز منارے بنا دیئے گئے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1644 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1644 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1644. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ پہلا طواف کرتے تو پہلے تین چکروں میں دوڑتے اور باقی چار میں معمول کے مطابق چلتے۔ اور جب صفا مروہ کی سعی کرتے تو نالے کے نشیب میں دوڑتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میں نے حضرت نافع ؒ سے پوچھا کہ حضرت ابن عمر ؓ جب رکن یمانی کے پاس پہنچتی تو کیا حسب معمول چلتے تھے؟انھوں نے کہا کہ نہیں، البتہ اگر حجر اسود کے پاس ہجوم ہوتا تو آہستہ چلتے کیونکہ اس کااستلام کیے بغیر اس کو نہیں چھوڑتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1644]
حدیث حاشیہ:
(1)
سعی دوڑنے اور مَشی معمول کے مطابق چلنے کو کہتے ہیں۔
صفا و مروہ کی سعی کا یہ مطلب نہیں کہ صفا سے لے کر مروہ تک دوڑ کر چکر لگانا ہے بلکہ مذکورہ حدیث کے مطابق صرف بطن مسیل میں رسول اللہ ﷺ دوڑتے تھے۔
اس سے مراد نالےے کا نشیبی علاقہ ہے۔
صرف اس علاقے میں معمول سے ذرا تیز چلتے تھے۔
یہ وہی علاقہ ہے جسے گزشتہ معلق روایت میں بنو عباد کے گھروں سے بنو ابی الحسین کی گلی تک کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
آج کل وہاں کچھ بھی نہیں بلکہ سبز رنگ کی بتیاں (Tube Lights)
لگی ہوئی ہیں۔
ان کے درمیان دوڑنا مسنون ہے، پھر عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان کے دوڑنے سے ان کی نسوانیت مجروح اور پردہ داری متاثر ہوتی ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے عنوان میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا موقوف عمل پیش کر کے بطن مسیل کی تحدید یا نشاندہی کی ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان صرف اس مقام پر دوڑنا مقصود ہے باقی علاقے میں معمول کے مطابق چلنا چاہیے۔
اگرچہ سعی کے ظاہری الفاظ سے دوڑنا ہی معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے ایسا نہیں ہے۔
(فتح الباري: 635/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1644 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1603 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1603. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا کہ جب آپ مکہ تشریف لاتے تو طواف شروع کرتے وقت پہلے حجراسود کو بوسہ دیتے، پھر سات چکروں میں سے پہلے تین میں ذرا اکڑ کر چلتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1603]
حدیث حاشیہ:
(1)
مکہ میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے جو طواف کیا جاتا ہے اسے طواف قدوم کہتے ہیں۔
رمل صرف اسی طواف میں ہے، خواہ یہ طواف حج کے لیے ہو یا عمرے کے لیے، نیز یہ رمل پہلے تین چکروں میں ہے۔
جو شخص رمل کرنا بھول جائے اس پر کوئی اعادہ یا قضا یا دم وغیرہ نہیں ہے۔
(2)
عورتوں پر رمل نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی پردہ داری متاثر ہوتی ہے۔
(3)
طواف قدوم کے علاوہ کسی قسم کے طواف میں رمل نہیں ہے، خواہ وہ طواف زیارت ہو یا طواف وداع یا عام نفلی طواف۔
طواف عمرہ میں بھی رمل کا حکم ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ قضا میں رمل کا حکم دیا تھا جس کی پہلے وضاحت ہو چکی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1603 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1604 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1604. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ حج اور عمرہ کرتے وقت طواف کے پہلے تین چکروں میں تیز چلتے اور دوڑتے تھےاور باقی چار چکروں میں معمول کے مطابق عام چال چلتے تھے۔ سریج کی لیث نے متابعت کی ہے، اس نے کہا: مجھے کثیر بن فرقد نے انھوں نے نافع سے، انھوں نے ابن عمر ؓ سے انھوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1604]
حدیث حاشیہ: مراد حجتہ الوداع اور عمرۃ القضاء ہے۔
حدیبیہ میں تو آپ ﷺ کعبہ تک پہنچ ہی نہ سکے تھے اور جعرانہ میں ابن عمر ؓ آپ کے ساتھ نہ تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1604 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1604 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1604. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ حج اور عمرہ کرتے وقت طواف کے پہلے تین چکروں میں تیز چلتے اور دوڑتے تھےاور باقی چار چکروں میں معمول کے مطابق عام چال چلتے تھے۔ سریج کی لیث نے متابعت کی ہے، اس نے کہا: مجھے کثیر بن فرقد نے انھوں نے نافع سے، انھوں نے ابن عمر ؓ سے انھوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1604]
حدیث حاشیہ:
(1)
جمہور کا موقف ہے کہ حج اور عمرے میں طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل مشروع ہے لیکن ابن عباس ؓ اسے مسنون قرار نہیں دیتے۔
وہ کہتے ہیں کہ انسان کو اختیار ہے کرے یا نہ کرے، البتہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور دیگر خلفاء ؓ حج اور عمرہ کرتے وقت رمل کرتے تھے۔
(مسندأحمد: 225/1)
بہرحال رمل مسنون ہے واجب نہیں۔
(2)
حضرت لیث کی متابعت کو امام نسائی نے متصل سند سے بیان کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ جب حج یا عمرہ کرنے کے لیے مکہ آتے تو طواف کے پہلے تین چکروں میں ذرا تیز چلتے اور باقی چار پھیروں میں اپنے معمول کی چال چلتے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
(سنن النسائي، مناسك الحج،حدیث: 2946)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1604 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1617 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1617. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ہی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب پہلا طواف کرتے تو پہلے تین چکروں میں دوڑتے اور باقی چار میں معمول کے مطابق چلتے۔ اور جب صفاومروہ کے درمیان سعی کرتے تو نالے کے وسط میں ذرا تیز دوڑتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1617]
حدیث حاشیہ:
(1)
بطن مسیل سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے بارش یا سیلاب کا پانی گزرتا تھا۔
اس نشیبی علاقے سے صفا و مروہ کی سعی کرتے وقت ذرا تیز دوڑنا چاہیے۔
امام بخاری ؒ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ان دونوں روایات سے بھی ثابت کیا ہے کہ عمرے میں صرف بیت اللہ کا طواف کرنے سے عمرہ مکمل نہیں ہوتا جب تک صفا و مروہ کی سعی نہ کر لی جائے اگرچہ حضرت ابن عباس ؓ کا موقف اس کے خلاف ہے۔
(2)
بعض شارحین نے حضرت ابن عباس ؓ کا موقف بیان کیا ہے کہ جو کوئی حج اِفراد کی نیت کرے وہ جب بیت اللہ میں داخل ہو تو طواف نہ کرے جب تک وہ عرفات سے لوٹ کر نہ آئے۔
اگر اس نے طواف کر لیا تو حج کا احرام ختم ہو جائے گا، اس لیے وہ طواف کرنے ہی سے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جائے گا۔
یہ قول بھی جمہور کے خلاف ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ عمرے کی تکمیل بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی سے ہو گی۔
اس کے بغیر عمرہ مکمل نہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1617 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1261 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے، تو تین چکروں میں رمل کرتے اور چار میں عام چال چلتے، اور جب صفا اور مروہ کے چکر لگاتے تو وادی کے اندر دوڑتے (نشیبی جگہ جس کی نشاندہی سبز ٹیوبوں سے کی گئی ہے) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح کرتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3048]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عمرہ یا حج کرنے والا جب مکہ مکرمہ پہنچ جائے گا تو وہ بیت اللہ میں جا کر سب سے پہلے طواف قدوم جسے طواف ورود اورطواف تحیہ بھی کہتے ہیں کرے گا تین چکروں میں قوت وطاقت کے اظہار والی تیز چال چلے گا، اوربعد والے چارچکروں میں عام چال چلے گا۔
(پور ے طواف میں اضطباع کرے گا، جس کی تفصیل گزر چکی ہے)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1261 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1891 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´طواف میں رمل کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1891]
1891. اردو حاشیہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی مذکورہ بالا حدیث میں جمع اور تطبیق یہ ہے۔ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ بیان عمرۃ القضا ء کے متعلق ہے۔جو ہجرت کے ساتویں سال فتح مکہ سے قبل کیا گیا تھا۔اسوقت رمل حجر اسودسے رکن یمانی تک کیا گیا تھا۔رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان رمل نہیں کیاگیا تھا۔ جب کہ سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں جوکچھ بیان ہوا ہے۔ یہ حجۃ الوداع کاواقعہ ہے۔ لہذا یہ بعد والی حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پہلی والی حدیث کی ناسخ ہے۔ مزید براں عمرۃ القضا اور حجۃ الوداع کے موقع پر کئے جانے والے دونوں رمل میں ایک بہت بڑا اور بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ عمرۃ القضا میں صرف مشرکین کو دکھانے اور اپنے آپ کو ان کی سوچ کے برعکس طاقتورظاہر کرنے کے لئے رمل کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس وقت مسلمان جسمانی طور پر کمزور تھے۔ جب کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ایسی کوئی بات نہیں تھی۔اس موقع پر مشرکین کوکچھ دکھانا مقصود تھا نہ نہ اپنی طاقت کا اظہار ہی بلکہ اس وقت صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کااتباع کرتے ہوئے رمل کیا گیا تھا۔اس لئے حجر اسودسے لے کر حجر اسود تک یعنی پورے چکر میں رمل کیا گیا۔واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1891 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2943 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´طواف کعبہ میں کتنے پھیرے لگائے؟`
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے تین پھیروں میں رمل ۱؎ کرتے اور چار پھیرے عام چال چلتے، اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2943]
اردو حاشہ: رمل سے مراد بھاگنے کے انداز میں چلنا ہے جس طرح پہلوان اکھاڑے میں فخر سے چلتا ہے۔ بازو بھاگنے کے انداز میں ہوں اور قدم قریب قریب رکھے جائیں۔ رمل کی ابتدا عمرۂ قضا میں ہوئی تھی۔ کفار مکہ نے کہا: مسلمانوں کو یثرب کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: انھیں ذرا قوت سے چل کر دکھاؤ۔ جس طرف کفار پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے (شمالی جانب) اس جانب مسلمان رمل کرتے، جب اوجھل ہو جاتے، یعنی جنوبی جانب پہنچ جاتے تو آہستہ ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ ادا ایسی بھائی کہ اسے اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرے کا جز بنا دیا، مگر صرف پہلے طواف اور تین چکروں میں تاکہ لوگوں کے لیے مشقت کا باعث نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2943 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2981 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صفا و مروہ کے درمیان رمل کرنے کا بیان۔`
زہری کہتے ہیں کہ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا و مروہ کے درمیان رمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت کے درمیان تھے (میں خود تو آپ کو دیکھ نہ سکا) لیکن لوگوں نے رمل کیا تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ کے رمل کرنے کی وجہ سے ہی لوگوں نے رمل کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2981]
اردو حاشہ: روایت ضعیف ہے، اس لیے اس سے باب والا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا، البتہ صرف ملین اخضرین بطن وادی کے دونوں کناروں پر لگے ہوئے سبز نشانات پر دوڑنا مسنون ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2981 سے ماخوذ ہے۔