حدیث نمبر: 612
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أنه كان يقبل الحجر الأسود ويسجد عليه. رواه الحاكم مرفوعا والبيهفي موقوفا.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` آپ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس کے سامنے سجدہ کرتے ۔ اسے حاکم نے مرفوع اور بیہقی نے موقوف روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 612
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم:1 /455 وصححه، ووافقه الذهبي، والدارقطني:2 /289، والمرفوع والموقوف صحيحان كلاهما.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس کے سامنے سجدہ کرتے۔ اسے حاکم نے مرفوع اور بیہقی نے موقوف روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 612]
612 فوائدو مسائل:
➊ اس حدیث سے حجراسود کو بوسہ دینے اور اس پر سجدہ کرنے کے مشروعیت معلوم ہوتی ہے۔
➋ سجدہ کرنے سے مراد اس جگہ پیشانی رکھنا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ اور جمہور اسے جائز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس میں وہم اور اضطراب ہے۔ مگر امام مالک رحمہ اللہ نے اسے بدعت کہا ہے۔ اور قاضی عیاض نے کہا ہے کہ یہ امام مالک رحمہ اللہ کا شذوذ ہے۔ اس کی تفصیل نیل الاوطار [ج: 5، ص: 44] میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 612 سے ماخوذ ہے۔