حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 60
وعن أبي بكرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم : أنه رخص للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن ، وللمقيم يوما وليلة ، إذا تطهر فلبس خفيه : أن يمسح عليهما . أخرجه الدارقطني وصححه ابن خزيمة.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے ( مسح کی مدت ) تین دن اور تین راتوں کی رخصت فرمائی ہے اور مقیم کیلئے ایک دن اور ایک رات ۔ اس حالت میں کہ اس نے باوضو ہو کر موزے پہنے ہوں تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے ۔
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´موزوں پر مسح کرنے کا بیان`
«. . . وعن أبي بكرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: أنه رخص للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن، وللمقيم يوما وليلة، إذا تطهر فلبس خفيه: أن يمسح عليهما . أخرجه الدارقطني وصححه ابن خزيمة. . . .»
”. . . سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے (مسح کی مدت) تین دن اور تین راتوں کی رخصت فرمائی ہے اور مقیم کیلئے ایک دن اور ایک رات۔ اس حالت میں کہ اس نے باوضو ہو کر موزے پہنے ہوں تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے۔
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/باب المسح على الخفين: 60]
«. . . وعن أبي بكرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: أنه رخص للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن، وللمقيم يوما وليلة، إذا تطهر فلبس خفيه: أن يمسح عليهما . أخرجه الدارقطني وصححه ابن خزيمة. . . .»
”. . . سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے (مسح کی مدت) تین دن اور تین راتوں کی رخصت فرمائی ہے اور مقیم کیلئے ایک دن اور ایک رات۔ اس حالت میں کہ اس نے باوضو ہو کر موزے پہنے ہوں تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے۔
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/باب المسح على الخفين: 60]
راویٔ حدیث: (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) ان کا نام نفیع (نافع کی تصغیر) بن حارث یا ابن مسروح ہے۔ یہ طائف کے قلعے سے کچھ نوجوانوں کے ہمراہ چرخی کے ذریعے سے باہر آئے اور اسلام قبول کرلیا۔ چونکہ چرخی کو ”بکرۃ“ کہتے ہیں، اس لیے ان کی یہ کنیت مشہور ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا۔ یہ فضلاء صحابہ میں شمار کیے جاتے ہیں، کثیر الاولاد تھے۔ 51 یا 52 ہجری میں بصرہ کے مقام پر وفات پائی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 60 سے ماخوذ ہے۔