حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 59
وعن عمر رضي الله عنه موقوفا ، وعن أنس مرفوعا : « إذا توضأ أحدكم فلبس خفيه فليمسح عليهما ، وليصل فيهما ، ولا يخلعهما إن شاء إلا من الجنابة ». أخرجه الدارقطني والحاكم وصححه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موقف اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ` ” جب تم میں سے کوئی موزے پہن کر وضو کرے تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے اور ان کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے ۔ اگر چاہے تو ان کو نہ اتارے ، الایہ کہ غسل جنابت کی ضرورت پیش آ جائے ۔ “
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´موزوں پر مسح`
«. . . عن انس مرفوعا: «إذا توضا احدكم فلبس خفيه فليمسح عليهما، وليصل فيهما، ولا يخلعهما إن شاء إلا من الجنابة . . .»
”. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی موزے پہن کر وضو کرے تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے اور ان کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے۔ اگر چاہے تو ان کو نہ اتارے، الایہ کہ غسل جنابت کی ضرورت پیش آ جائے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/باب المسح على الخفين: 59]
«. . . عن انس مرفوعا: «إذا توضا احدكم فلبس خفيه فليمسح عليهما، وليصل فيهما، ولا يخلعهما إن شاء إلا من الجنابة . . .»
”. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی موزے پہن کر وضو کرے تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے اور ان کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے۔ اگر چاہے تو ان کو نہ اتارے، الایہ کہ غسل جنابت کی ضرورت پیش آ جائے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/باب المسح على الخفين: 59]
لغوی تشریح:
«لَا یَخْلَعْھُمَا» یعنی موزوں کو نہ کھینچے اور پاؤں سے نہ نکالے۔
«لَا یَخْلَعْھُمَا» یعنی موزوں کو نہ کھینچے اور پاؤں سے نہ نکالے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 59 سے ماخوذ ہے۔