حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 541
وعن شداد بن أوس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أتى على رجل بالبقيع وهو يحتجم في رمضان فقال : « أفطر الحاجم والمحجوم ». رواه الخمسة إلا الترمذي وصححة أحمد وابن خزيمة وابن حبانترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک ایسے شخص کے پاس تشریف لائے جو رمضان میں پچھنے لگوا رہا تھا ۔ اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سینگی ( پچھنے ) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ “
بجز ترمذی اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ احمد ، ابن خزیمہ اور ابن حبان تینوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(روزے کے متعلق احادیث)`
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک ایسے شخص کے پاس تشریف لائے جو رمضان میں پچھنے لگوا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سینگی (پچھنے) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ “
بجز ترمذی اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ احمد، ابن خزیمہ اور ابن حبان تینوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 541]
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک ایسے شخص کے پاس تشریف لائے جو رمضان میں پچھنے لگوا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سینگی (پچھنے) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ “
بجز ترمذی اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ احمد، ابن خزیمہ اور ابن حبان تینوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 541]
راوئ حدیث 541:
حضرت شدّاد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابویعلٰی نجاری، انصاری مدنی۔ انصار میں سے ہونے کی وجہ سے انصاری مدنی کہلائے۔ حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھتیجے تھے۔ علم و حلم کے مالک تھے۔ 58 ہجری میں 75 برس کی عمر پاکر شام میں وفات پائی۔
حضرت شدّاد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابویعلٰی نجاری، انصاری مدنی۔ انصار میں سے ہونے کی وجہ سے انصاری مدنی کہلائے۔ حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھتیجے تھے۔ علم و حلم کے مالک تھے۔ 58 ہجری میں 75 برس کی عمر پاکر شام میں وفات پائی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 541 سے ماخوذ ہے۔