حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 523
وعن عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد ، إنما هي أوساخ الناس». وفي رواية:« وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد ». رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ صدقہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے مناسب ہی نہیں ۔ یہ تو لوگوں کے اموال کی میل کچیل ہے ۔ ‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’ صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حلال نہیں ۔ ‘‘ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´صدقات کی تقسیم کا بیان`
سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ صدقہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے مناسب ہی نہیں۔ یہ تو لوگوں کے اموال کی میل کچیل ہے۔ ‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’ صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حلال نہیں۔ ‘‘ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 523]
سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ صدقہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے مناسب ہی نہیں۔ یہ تو لوگوں کے اموال کی میل کچیل ہے۔ ‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’ صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حلال نہیں۔ ‘‘ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 523]
لغوی تشریح 523:
أَوسَاخُ النَّاسِ وسخ کی جمع ہے۔ میل کچیل۔ آلِ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کا ذکر کتاب الزکاۃ کی ایک ابتدائی حدیث: 488 میں گزر چکا ہے۔
راوئ حدیث: حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ انکا سلسلۂ نصب یوں ہے: ابنِ عبد المطلب بن ہاشم القریشی، مدینہ میں رہائش پذیر ہوے۔ پھر دمشق تشریف لے گے اور 62 ہجری میں وہیں وفات پائی۔
أَوسَاخُ النَّاسِ وسخ کی جمع ہے۔ میل کچیل۔ آلِ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کا ذکر کتاب الزکاۃ کی ایک ابتدائی حدیث: 488 میں گزر چکا ہے۔
راوئ حدیث: حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ انکا سلسلۂ نصب یوں ہے: ابنِ عبد المطلب بن ہاشم القریشی، مدینہ میں رہائش پذیر ہوے۔ پھر دمشق تشریف لے گے اور 62 ہجری میں وہیں وفات پائی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 523 سے ماخوذ ہے۔