حدیث نمبر: 519
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « المسألة كد يكد بها الرجل وجهه إلا أن يسأل الرجل سلطانا أو في أمر لا بد منه». رواه الترمذي وصححه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سوال کرنا ایک زخم ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے ، سوائے اس کے کہ وہ شخص سربراہ مملکت سے سوال کرے یا کسی مجبوری کی وجہ سے ( مانگے ) ۔ “ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 519
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه الترمذي، الزكاة، باب ما جاء في النهي عن المسألة، حديث:681.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نفلی صدقے کا بیان`
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوال کرنا ایک زخم ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ شخص سربراہ مملکت سے سوال کرے یا کسی مجبوری کی وجہ سے (مانگے)۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 519]
لغوی تشریح 519:
کُدُوح کاف اور دال دونوں پر ضمہ ہے۔ کَدَح کی جمع ہے۔ کدح کے کاف پر فتحہ اور دال ساکن ہے، خدش اور خمش کے ہم معنی ہے، خراش اور زخم کہتے ہیں، یعنی اس کے چہروں پر زخموں کے نشانات اور خراشوں کی ایسی علامات ہوں گی جو فی الحقیقت ناپسندیدہ ہوں گی، یا یہ کہ اس کے چہرے پر ذلت و رسوائی اور اہانت کے نشانات ظاہر ہو رہے ہوں گے۔ ایک نسخے میں کُدُوحٌ کے بجائے کَدُّ کے الفاظ ہیں لیکن معنی میں کوئی فرق نہیں۔

فائدہ 519:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی سے بغیر ضرورت مانگنا جائز نہیں اور ضرورتمند کو بھی بادشاہ اور سربراہِ مملکت سے مانگنا چاہیے کیونکہ حاجتمندوں کا بیت المال پر حق ہے اور بادشاہ سے مانگنا، اپنے حق کے حصول کا سوال ہے، اس میں کسی کے امتنان و احسان کا کوئی تعلق نہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 519 سے ماخوذ ہے۔