حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 500
وعن أم سلمة رضي الله عنها أنها كانت تلبس أوضاحا من ذهب فقالت : يا رسول الله أكنز هو ؟ قال : « إذا أديت زكاته فليس بكنز ». رواه أبو داود والدارقطني وصححه الحاكم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` انہوں نے سونے کا زیور پہن رکھا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ! کیا یہ کنز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تو نے اس کی زکوٰۃ ادا کر دی تو پھر یہ کنز نہیں ۔ “
اسے ابوداؤد اور دارقطنی دونوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´استعمال کے زیور میں بھی زکاۃ کا بیان`
”سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے سونے کا زیور پہن رکھا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ! کیا یہ کنز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تو نے اس کی زکوٰۃ ادا کر دی تو پھر یہ کنز نہیں۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 500]
”سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے سونے کا زیور پہن رکھا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ! کیا یہ کنز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تو نے اس کی زکوٰۃ ادا کر دی تو پھر یہ کنز نہیں۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 500]
لغوی تشریح:
«اَوْضَاحًا» ”ضاد“ معجمہ اور ”حا“ مہملہ کے ساتھ، وضح کی جمع ہے۔ وضح کے معنی ہیں پازیب، یعنی پاوں کا زیور۔
«اَكَنُزٌهُوَ؟» اس میں ہمزہ استفہامیہ ہے، یعنی دریافت کیا کہ آیا یہ کنز کی تعریف میں آتا ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں سخت وعید وارد ہے: «وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ● يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ» [9-التوبة:34]
”اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا، پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، ان کی پہلووں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (اور کہا جائے گا) یہ وہی یے جسے تم اپنے لیے خزانہ بناکر رکھتے تھے، لہٰذا اب اس کا مزا چکھو جو تم جمع کرتے رہے تھے۔“
«اِذَا اَدَّيْتِ زَكَاتَهُ» اس سے زیور میں زکاۃ کا وجوب معلوم ہوتا ہے۔ اور سنن ابوداود میں ہے کہ جب مال، نصاب زکاۃ کو پہنچ جائے اور اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے تو پھر وہ کنز نہیں رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیور میں نصاب معتبر ہے۔ جب نصاب زکاۃ سے کم مالیت کا زیور ہو گا تو اس میں زکاۃ واجب نہیں۔
فائدہ:
مذکورہ روایت کو فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس پر مفصل بحث کرتے ہوئے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اور اس کی مفصل بحث سے یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ یہ روایت شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [السلسلة الصحيحة للالباني، رقم: 559 وصحيح سنن ابي داواد، مفصل رقم: 1397]
بنابریں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استعمال کے زیور میں بھی زکاۃ ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے۔ اس کی تائید میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث مروی ہے جسے فاضل محقق نے بھی سنداً صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھوں میں چاندی کی (موٹی موٹی) انگوٹھیاں دیکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں آپ کی خاطر زینت کے لیے پہنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس کی زکاۃ دیتی ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، یا اس طرح کی کوئی بات کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے جہنم میں لے جانے کے لیے یہی کافی ہے۔“ [سنن ابي داود، الزكاة، باب الكنز ماهو؟ وزكاة الحلي، حديث: 1565]
مذکورہ دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ استعمال ہونے والے زیور میں بھی زکاۃ ہے جبکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے۔ «والله اعلم»
«اَوْضَاحًا» ”ضاد“ معجمہ اور ”حا“ مہملہ کے ساتھ، وضح کی جمع ہے۔ وضح کے معنی ہیں پازیب، یعنی پاوں کا زیور۔
«اَكَنُزٌهُوَ؟» اس میں ہمزہ استفہامیہ ہے، یعنی دریافت کیا کہ آیا یہ کنز کی تعریف میں آتا ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں سخت وعید وارد ہے: «وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ● يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ» [9-التوبة:34]
”اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو آپ انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا، پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، ان کی پہلووں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (اور کہا جائے گا) یہ وہی یے جسے تم اپنے لیے خزانہ بناکر رکھتے تھے، لہٰذا اب اس کا مزا چکھو جو تم جمع کرتے رہے تھے۔“
«اِذَا اَدَّيْتِ زَكَاتَهُ» اس سے زیور میں زکاۃ کا وجوب معلوم ہوتا ہے۔ اور سنن ابوداود میں ہے کہ جب مال، نصاب زکاۃ کو پہنچ جائے اور اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے تو پھر وہ کنز نہیں رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیور میں نصاب معتبر ہے۔ جب نصاب زکاۃ سے کم مالیت کا زیور ہو گا تو اس میں زکاۃ واجب نہیں۔
فائدہ:
مذکورہ روایت کو فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس پر مفصل بحث کرتے ہوئے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اور اس کی مفصل بحث سے یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ یہ روایت شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [السلسلة الصحيحة للالباني، رقم: 559 وصحيح سنن ابي داواد، مفصل رقم: 1397]
بنابریں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استعمال کے زیور میں بھی زکاۃ ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے۔ اس کی تائید میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث مروی ہے جسے فاضل محقق نے بھی سنداً صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھوں میں چاندی کی (موٹی موٹی) انگوٹھیاں دیکھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں آپ کی خاطر زینت کے لیے پہنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس کی زکاۃ دیتی ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، یا اس طرح کی کوئی بات کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے جہنم میں لے جانے کے لیے یہی کافی ہے۔“ [سنن ابي داود، الزكاة، باب الكنز ماهو؟ وزكاة الحلي، حديث: 1565]
مذکورہ دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ استعمال ہونے والے زیور میں بھی زکاۃ ہے جبکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے۔ «والله اعلم»
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 500 سے ماخوذ ہے۔