حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 455
وعن جابر رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يكبر على جنائزنا أربعا ويقرأ بفاتحة الكتاب في التكبيرة الأولى.رواه الشافعي بإسناد ضعيف.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جنازوں پرچار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر میں سورۃ «فاتحه» ( بھی ) پڑھتے تھے ۔
اسے شافعی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز جنازہ کی پہلی تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ پڑھنا مسنون ہے`
”سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جنازوں پرچار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر میں سورۃ «فاتحه» (بھی) پڑھتے تھے۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 455]
”سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جنازوں پرچار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر میں سورۃ «فاتحه» (بھی) پڑھتے تھے۔“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 455]
فوائد و مسائل:
➊ اس روایت کی سند میں محمد بن عبداللہ بن عقیل ضعیف راوی ہے، جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتا ہے، البتہ اگلی حدیث اس کی موید اور شاہد ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے اس طرف تحقیق و تخریج میں اشارہ کیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔ بنابریں اس روایت اور آئندہ آنے والی روایت دونوں سے ثابت ہوا کہ نماز جنازہ کی پہلی تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ پڑھنا مسنون ہے، اب یہ کہنا کہ قرأت کی نیت سے نہ پڑھے بلکہ صرف دعا کی نیت سے پڑھے، محض ایسی تاویل ہے جس کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔
➋ سنن نسائی کی ایک روایت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ ایک اور سورت پڑھنے کا ذکر بھی مروی ہے۔ [سنن النسائي، الجنائز، باب الدعاء، حديث: 1989]
امام شافعی رحمہ الله اور امام احمد رحمہ الله کے نزدیک تو سورہ فاتحہ کا نماز جنازہ میں پڑھنا واجب ہے۔ اور بعض حضرات اس کی مشروعیت کے قائل نہیں۔ مگر اس کی عدم مشروعیت پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔
➊ اس روایت کی سند میں محمد بن عبداللہ بن عقیل ضعیف راوی ہے، جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتا ہے، البتہ اگلی حدیث اس کی موید اور شاہد ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے اس طرف تحقیق و تخریج میں اشارہ کیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔ بنابریں اس روایت اور آئندہ آنے والی روایت دونوں سے ثابت ہوا کہ نماز جنازہ کی پہلی تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ پڑھنا مسنون ہے، اب یہ کہنا کہ قرأت کی نیت سے نہ پڑھے بلکہ صرف دعا کی نیت سے پڑھے، محض ایسی تاویل ہے جس کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔
➋ سنن نسائی کی ایک روایت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ ایک اور سورت پڑھنے کا ذکر بھی مروی ہے۔ [سنن النسائي، الجنائز، باب الدعاء، حديث: 1989]
امام شافعی رحمہ الله اور امام احمد رحمہ الله کے نزدیک تو سورہ فاتحہ کا نماز جنازہ میں پڑھنا واجب ہے۔ اور بعض حضرات اس کی مشروعیت کے قائل نہیں۔ مگر اس کی عدم مشروعیت پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 455 سے ماخوذ ہے۔