وعن أبي هريرة رضي الله عنه في قصة المرأة التي كانت تقم المسجد قال فسأل عنها النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقالوا : ماتت فقال : « أفلا كنتم آذنتموني ؟ » فكأنهم صغروا أمرها ، فقال : « دلوني على قبرها » فدلوه ، فصلى عليها. متفق عليه.´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے` اس عورت کے بارے میں جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ، روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ وہ فوت ہو چکی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم نے مجھے اطلاع کیوں دی ؟ “ گویا انہوں نے اس کے معاملہ وفات کو معمولی خیال کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھے اس کی قبر کا راستہ بتاؤ ۔ “ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر کا راستہ بتا دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں جا کر قبر پر نماز جنازہ پڑھی ۔ ( بخاری و مسلم ) اور مسلم نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ قبریں اہل قبور کے لئے اندھیروں سے بھری ہوئی ہیں اور میری نماز سے ان کی قبروں میں روشنی ہو جاتی ہے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
” . . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر کا راستہ بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں جا کر قبر پر نماز جنازہ پڑھی . . . “ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 447]
«تَقُمُّ» ”قاف“ پر ضمہ اور ”میم“ پر تشدید ہے، یعنی جھاڑو دیا کرتی تھی۔ لکڑیاں، کپڑے کے چیتھڑے، کوڑا کرکٹ، غبار اور بھوسا وغیرہ باہر نکالا کرتی تھی۔ یہ خاتون سیام فام تھی اور اس کا نام محجن تھا۔
«آذَنْتُمونِي» اس کی وفات کی مجھے اطلاع دیتے تاکہ میں بھی اس کی نماز جنازہ پڑھتا۔
«صَغَّرُو» نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اعتبار سے انہوں نے اس کی وفات کو معمولی سمجھا۔
«دُلُّونِي» ”دال“ پر ضمہ ہے اور یہ «دلَالَهٌ» سے امر کا صیغہ ہے۔
«فَدَلُّوهُ» ”دال“ پر فتحہ اور ”لام“ پر ضمہ ہے اور یہ «دلَالةُ» سے ماضی کا صیغہ ہے۔
«ظُلُمَةٌ» تمییز واقع ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔
فوائد و مسائل:
اس حدیث سے کئی مسائل ثابت ہوتے ہیں۔
➊ دفن کرنے کے بعد میت کی قبر پر بھی نماز جنازہ پڑھنی جائز ہے، گو تدفین سے پہلے بھی اس پر نماز جنازہ پڑھی جا چکی ہو۔ حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ بھی آپ نے ایک ماہ بعد ان کی قبر پر پڑھی تھی کیونکہ ان کی وفات کے وقت آپ مکہ مکرمہ میں تھے۔ [الطبقات الكبري لابن سعد: 620، 618/3]
➋ مرنے والے کی قبر وہی ہے جہاں اسے دفن کیا ہو، انہی قبروں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ان میں تاریکی ہی تاریکی ہے، روشنی نام کی کوئی چیز نہیں۔
➌ مسجد کی صفائی کرنے والے مرتبہ اور مقام بلند ہے۔
➍ مسجد کی صفائی مسلمان خاتون بھی کر سکتی ہے۔
➎ مسجد کو صاف ستھرا اور پاک رکھنا ضروری ہے، صفائی جھاڑو سے بھی کی جا سکتی ہے اور کپڑے سے بھی۔
➏ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غریبوں سے محبت کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ آپ کو اپنے کارکن مرد و عورت دونوں سے کس قدر تعلق اور لگاؤ تھا۔
1۔
امام بخاری ؒ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسجد کی دیکھ بھال کے لیے خادم رکھنا سنت قدیمہ ہے۔
جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ کے اثر سے معلوم ہوتا ہے۔
اسے ابوحاتم ؒ نے اپنی تفسیر میں موصولاً بیان کیا ہے۔
پیش کردہ روایت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مساجد کی خدمت کے لیے خادم کا تقررجائز ہے۔
جیسا کہ حدیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر کوئی انکار نہیں کیا، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
اگردوسرے حضرات خدمت کرنا چاہیں تو ان کے لیے کوئی ممانعت نہیں، نیز اس خدمت کے لیے جس شخص کا تقرر ہوگا، وہ بھی تمام مسلمانوں کی طرف سے نائب کے طور پر کام کرے گا، کیونکہ اہل محلہ مل کر اس کی خدمت کریں گے۔
چونکہ یہ ضرورت سے ہے اس بنا پر اس خدمت کے عوض تنخواہ لینا بھی جائز ہے۔
یہ روایت تفصیلاً پہلے (458)
گزر چکی ہے۔
2۔
اس حدیث سے خدمت مسجد کی عظمت اور اہمیت کا پتہ چلتاہے، کیونکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے باز پرس فرمانے پر یہ معذرت کی گئی کہ آرام کا وقت تھا ہم لوگوں نے خیال کیا کہ آپ کو بیدار کرنے میں زحمت ہوگی، اس لیے آپ کو اطلاع نہیں دی گئی۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رات تاریک تھی، اس لیے اس حادثے کواہمیت نہیں دی گئی۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ان حضرات نے خادمہ کے معاملے کو معمولی خیال کیا کہ ایک بے سروسامان مسجد کی خادمہ کا انتقال ہوگیا ہے۔
اس کا یہاں خویش واقارب بھی نہیں ہے۔
لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کی قبر پر جنازہ پڑھ کر اس کی عظمت واہمیت کو اجاگر فرمایا کہ مسجد میں جھاڑودینے کی خدمت کو معمولی کام نہیں خیال کرنا چاہیے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبر پر جنازہ پڑھنے کے بعد فرمایا: ’’ان قبروں میں اہل قبور پر تاریکی چھائی رہتی ہے، اللہ تعالیٰ ان پر میرے جنازہ پڑھنے کی وجہ سے قبروں کو ان کے لیے منور کردیتاہے۔
‘‘ (صحیح المسلم، الجنائز، حدیث: 2215 (956)
1۔
ایک عورت مسجد نبوی کی خدمت کیا کرتی تھی، ذکر کردہ روایت میں شک کا صیغہ استعمال ہوا ہے کہ وہ عورت تھی یا مرد تھا، لیکن بعض روایات میں عورت کا تعین ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت حماد کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق وہ عورت تھی۔
(حدیث: 460)
پھر ابن خزیمہ کی روایت میں صراحت ہے کہ وہ عورت تھی بیہقی میں اس کی کنیت ام مجحن بتائی گئی ہے۔
ابن مندہ نے اس کا نام خرقاء لکھاہے۔
ایک روایت کے مطابق جس شخص نے اس کی وفات کے متعلق آپ کو مطلع کیا تھا وہ جناب ابوبکرصدیق ؓ تھے۔
(فتح الباري: 715/1)
امام بخاری ؒ نے عنوان میں ایسی چیزیں ذکر کی ہیں جن کی تفصیل حدیث میں نہیں ہے، البتہ(يَقُمُّ الْمَسْجِدَ)
کے الفاظ ان تمام چیزوں کو شامل ہیں، کیونکہ ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مسجد نبوی کاتمام کوڑا کرکٹ، یعنی چیتھڑے، لکڑی کا چورا اور تنکے اور گردوغبار سب چیزوں کو جھاڑ دے کر مسجد سے باہر پھینکتی تھی۔
اس کے علاوہ امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ وہ عنوان کے الفاظ سے ذکرکردہ حدیث کے دیگر طرق کی طرف اشارہ کردیتے ہیں، چنانچہ صحیح ابن خذیمہ کی روایت میں ہے کہ وہ مسجد سے خس وخاشاک چننے میں خصوصیت شغف رکھتی تھی۔
اور بیہقی ؒ میں ہے کہ وہ مسجد سے بوسیدہ کپڑے اور لکڑی کا چورا وغیرہ چنتی رہتی تھی۔
ان روایات میں ان تمام چیزوں کو بیان کیا گیا جو امام بخاری ؒ نے اپنے قائم کردہ عنوان میں ذکر کی ہیں۔
گویا امام بخاری نے اپنے ذوق کےمطابق عنوان بالا سے حدیث کے دیگر طرق کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
(فت (فتح الباري: 715/1)
2۔
قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کے متعلق ہم اپنے موقف کی وضاحت آئندہ کتاب الجنائز میں کریں گے۔
بإذن اللہ۔
البتہ اس بات کاذکر کرنا ضروری ہے کہ مسجد کی صفائی کرنا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی قبر پر جنازہ پڑھ کر اس اہمیت کو اجاگر فرمایا کہ مسجد میں جھاڑ دینے کی خدمت کوئی معمولی خدمت نہیں۔
حبیب خدا ﷺ نے ڈھونڈ کر اس کی قبر پر نماز پڑھی۔
واہ رے قسمت! آپ کی کفش برداری اگر ہم کو بہشت میں نصیب ہوجائے تو ایسی دنیا کی لاکھوں سلطنتیں اس پر تصدق کردیں۔
(وحیدي)
حضرت امام بخاری ؒ نے اس سے ثابت فرمایا کہ اگر کسی مسلمان مرد یا عورت کا جنازہ نہ پڑھا گیا ہو تو قبر پر دفن کرنے کے بعد بھی پڑھا جاسکتا ہے۔
بعض نے اسے نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص بتلایا ہے مگر یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔
حضرت یزید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی قبر پر جا کر اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 48/4)
ایک روایت میں ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے حتی کہ اس عورت کی قبر کے پاس کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اس طرح صفیں درست کیں، جیسا کہ نماز جنازہ کے لیے صفیں درست کی جاتی ہیں، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 48/4)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دفن کیے جانے کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے، لیکن بعض حضرات کا خیال ہے کہ ایسا کرنا غیر مشروع ہے اور رسول اللہ ﷺ کا قبر پر نماز جنازہ پڑھنا آپ کی خصوصیت ہے، کیونکہ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ قبریں اہل قبور کے لیے اندھیروں سے بھری ہوئی ہیں اور میری دعا سے ان کی قبروں میں روشنی ہو جاتی ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 46/4)
امام ابن حبان نے اس کا جواب دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھ نماز پڑھنے والوں پر کوئی انکار نہیں کیا۔
اس کا صاف مطلب ہے کہ قبر پر نماز جنازہ پڑھنا رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت نہیں بلکہ امت کے لیے بھی جائز ہے۔
(صحیح ابن حبان: 36/6)
مسجد کی دیکھ بھال اور صفائی کرنا ایک بہت اچھا کام ہے۔
اس کام کو حقیر خیال نہیں کرنا چاہیے۔
2۔
امام کو اپنے مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے اگر ان میں سے کوئی غیر حاضر ہو یا نظر نہ آئے تو اس کے بارے میں ساتھیوں سے معلومات حاصل کرنی چاہیے۔
3۔
قبر پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے اور اس کا طریقہ وہی ہے جو عام جنازہ کا ہے جمہور کے نزدیک قبر پر جنازہ پڑھنا جائز ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صرف میت کا ولی اگر اس نے جنازہ نہ پڑھا ہو تو قبر پر جنازہ پڑھ سکتا ہے۔
4۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی قبر پر جنازہ پڑھنا صحیح نہیں ہے یہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ آپﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بھی نماز جنازہ پڑھی تھی۔
5۔
قبر کی ظلمت اور اندھیرا نیک لوگوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں زائل ہو جاتا ہے اور قبر روشن ہو جاتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مر گیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی؟ “ آپ نے فرمایا: ” مجھے اس کی قبر بتاؤ “، لوگوں نے بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3203]
1۔
قبر پر جا کر نماز جنازہ پڑھنی جائز ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ ضعیف مسلمانوں کا بھی خاص خیال رکھا کرتے تھے۔
3۔
مسجد کی صفائی ستھرائی بہت ہی بڑے اجر کا کام ہے۔
اور یہ اسی عمل کی برکت تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی قبر پر جاکر نماز جنازہ پڑھی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں دیکھا، کچھ روز کے بعد اس کے متعلق پوچھا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کا انتقال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر مجھے خبر کیوں نہ دی، اس کے بعد آپ اس کی قبر پہ آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1527]
فوائد و مسائل:
(1)
خدام کی خبر گیری اور ان کے حالات معلوم کرنا اخلاقی فرض ہے۔
(2)
چند دن بعد غالباً اس لئے دریافت فرمایا کہ اس سے پہلے یہ خیال ہوسکتا ہے کہ کسی کام سے یا کسی ر شتہ دار کو ملنے چلی گئی ہوگی یا معمولی بیماری یا مصروفیت کی وجہ سے مسجد کی صفائی کے لئے نہیں آ سکی۔
(3)
جو شخص کسی وجہ سے نماز جنازہ میں شریک نہ ہوسکا ہو وہ قبر پر جاکر نماز جنازہ ادا کرسکتا ہے۔
اس کی کیفیت وہی ہوگی جیسے میت چار پائی پر سامنے رکھ کر جنازہ پڑھا جاتا ہے۔
(4)
نماز جنازہ کی مذکورہ بالا صورت کے سوا کوئی بھی نماز ادا کرنا حرام ہے۔
ارشاد نبوی ہے۔
ساری زمین مسجد (عبادت کی جگہ)
ہے۔
سوائے قبرستان اور حمام کے (سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب فی المراضع لاتجوز فیھا الصلاۃ، حدیث: 493، وجامع الترمذي، الصلاۃ، باب ما جاء أن الأرض کلھا مسجد إلا المقبرۃ والحمام، حدیث: 317)
نیز ارشاد نبوی ہے۔
قبروں کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو۔
نہ ان پر بیٹھو۔ (صحیح مسلم، الجنائز، باب النھی عن الجلوس علی القبر والصلاۃ علیه، حدیث: 974)
(5)
سنن بہیقی میں اس خاتون کا نام ام محجن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مذکور ہے۔
دیکھئے: (سنن الکبریٰ للبہقي: 48/4)