حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 414
وعن أنس رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استسقى فأشار بظهر كفيه إلى السماء. أخرجه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا فرمائی تو اپنے دونوں ہاتھ الٹی حالت میں آسمان کی طرف اٹھا کر ارشاد فرمایا ۔ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز استسقاء کا بیان`
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا فرمائی تو اپنے دونوں ہاتھ الٹی حالت میں آسمان کی طرف اٹھا کر ارشاد فرمایا۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 414»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا فرمائی تو اپنے دونوں ہاتھ الٹی حالت میں آسمان کی طرف اٹھا کر ارشاد فرمایا۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 414»
تخریج:
«أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء، حديث:896.»
تشریح: 1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدھے ہاتھوں سے دعا مانگنا بھی منقول ہے جبکہ اس حدیث میں عام طریقۂ دعا کے برعکس یہ طریقہ اختیار کرنے کا ذکر ہے۔
2. ان دونوں طریقوں میں علماء نے یہ تطبیق دی ہے کہ رحمت طلب کرنے کے لیے دعا کے وقت ہتھیلیوں کا رخ اوپر کو ہونا چاہیے اور جب ضرر و مصیبت کو دور کرنے کے لیے دعا مانگی جائے تو ہتھیلیوں کا رخ نیچے کو کیا جائے۔
اس سے تفاوُل (اچھی فال) مراد ہوتا ہے کہ اے اللہ! ہماری حالت کو اس طرح تبدیل فرما دے۔
3.دعائے استسقا کے وقت چادر کو الٹانے اور پھیرنے میں بھی غالباً یہی حکمت کارفرما ہے اور ہتھیلیوں کے نیچے کرنے میں بھی یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کے منہ بھی نیچے کر دے تاکہ بارش خوب برسے جو خشک سالی کو ہریالی سے بدل ڈالے۔
«أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء، حديث:896.»
تشریح: 1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدھے ہاتھوں سے دعا مانگنا بھی منقول ہے جبکہ اس حدیث میں عام طریقۂ دعا کے برعکس یہ طریقہ اختیار کرنے کا ذکر ہے۔
2. ان دونوں طریقوں میں علماء نے یہ تطبیق دی ہے کہ رحمت طلب کرنے کے لیے دعا کے وقت ہتھیلیوں کا رخ اوپر کو ہونا چاہیے اور جب ضرر و مصیبت کو دور کرنے کے لیے دعا مانگی جائے تو ہتھیلیوں کا رخ نیچے کو کیا جائے۔
اس سے تفاوُل (اچھی فال) مراد ہوتا ہے کہ اے اللہ! ہماری حالت کو اس طرح تبدیل فرما دے۔
3.دعائے استسقا کے وقت چادر کو الٹانے اور پھیرنے میں بھی غالباً یہی حکمت کارفرما ہے اور ہتھیلیوں کے نیچے کرنے میں بھی یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کے منہ بھی نیچے کر دے تاکہ بارش خوب برسے جو خشک سالی کو ہریالی سے بدل ڈالے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 414 سے ماخوذ ہے۔