حدیث نمبر: 410
وعنه رضي الله عنه قال : أصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مطر قال فحسر ثوبه حتى أصابه من المطر وقال : « إنه حديث عهد بربه ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ` ہم ایک دفعہ بارش کی لپیٹ میں آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن اطہر سے کپڑا اوپر اٹھایا کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطیب پر پڑنے لگی اور ارشاد فرمایا کہ ” یہ اپنے آقا و مالک کے ہاں سے نئی نئی ( تحفہ کی صورت میں ) آ رہی ہے ۔ “ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 410
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:898.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز استسقاء کا بیان`
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ ہم ایک دفعہ بارش کی لپیٹ میں آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بدن اطہر سے کپڑا اوپر اٹھایا کہ بارش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطیب پر پڑنے لگی اور ارشاد فرمایا کہ " یہ اپنے آقا و مالک کے ہاں سے نئی نئی (تحفہ کی صورت میں) آ رہی ہے۔ " (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 410»
تخریج:
«أخرجه مسلم، صلاة الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حديث:898.»
تشریح: 1. حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ بارش اللہ کی رحمت ہے۔
ابھی یہ ایسی حالت میں ہے کہ کسی گناہ گار کا ہاتھ اسے نہیں لگا ہے اور نہ ابھی ایسے مقام تک پہنچی ہے جہاں لوگ گناہ میں ملوث ہوتے ہیں۔
2.اس حدیث میں خیر اور برکت والی اشیاء سے تبرک حاصل کرنے کی جانب رغبت دلائی گئی ہے۔
3.بارش کے پانی میں نہانا مفید اور جائز ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 410 سے ماخوذ ہے۔