حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 400
وعن أبي هريرة رضي الله عنه : أنهم أصابهم مطر في يوم عيد فصلى بهم النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلاة العيد في المسجد . رواه أبو داود بإسناد لين.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ` ایک موقع پر عید کے دن مسلمانوں کو بارش نے آ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی ۔
اسے ابوداؤد نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز عیدین کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک موقع پر عید کے دن مسلمانوں کو بارش نے آ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔
اسے ابوداؤد نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 400»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک موقع پر عید کے دن مسلمانوں کو بارش نے آ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔
اسے ابوداؤد نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 400»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب يصلي بالناس العيد في المسجد، حديث:1160، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1313.* عيسي بن عبدالأعلي مجهول (تقريب) وشيخه مستور، وله شاهد ضعيف عند البيهقي:3 /310.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود معناً صحیح ہے‘ یعنی مسئلہ اسی طرح ہے کہ نماز عید کھلے میدان میں پڑھنا افضل ہے‘ تاہم معقول شرعی عذر کی وجہ سے مسجد میں نماز عید پڑھی جا سکتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عید باہر عیدگاہ میں جا کر ہی پڑھتے تھے۔
باران رحمت کی وجہ سے مسجد میں پڑھائی۔
2.مسئلے کی نوعیت اپنے مقام پر ہے مگر اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالاعلیٰ بن ابی فروہ مجہول ہے۔
اس وجہ سے یہ روایت باعتبار سند کمزور ہے۔
3.علماء میں اختلاف ہے کہ نماز عید وسیع و کشادہ مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا باہر نکل کر عیدگاہ میں؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وسیع و فراخ اور کشادہ مسجد میں پڑھنا افضل ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر نماز عید باہر عیدگاہ میں ادا فرمائی ہے۔
ہاں‘ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے عذر پیش آگیا تو آپ نے نماز عید مسجد میں پڑھائی‘ اس لیے عیدگاہ میں پڑھنا افضل ہے۔
4. یہ بھی معلوم حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع ہمیشہ افضل کام پر مداومت و محافظت فرمائی ہے‘ نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ نماز عید کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اگر باہر نکل کر نماز عید پڑھنا مسنون نہ ہوتا تو میں مسجد میں پڑھتا‘ اس لیے عیدگاہ میں نماز پڑھنا ہی مسنون اور افضل ہے۔
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب يصلي بالناس العيد في المسجد، حديث:1160، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1313.* عيسي بن عبدالأعلي مجهول (تقريب) وشيخه مستور، وله شاهد ضعيف عند البيهقي:3 /310.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود معناً صحیح ہے‘ یعنی مسئلہ اسی طرح ہے کہ نماز عید کھلے میدان میں پڑھنا افضل ہے‘ تاہم معقول شرعی عذر کی وجہ سے مسجد میں نماز عید پڑھی جا سکتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عموماً نماز عید باہر عیدگاہ میں جا کر ہی پڑھتے تھے۔
باران رحمت کی وجہ سے مسجد میں پڑھائی۔
2.مسئلے کی نوعیت اپنے مقام پر ہے مگر اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالاعلیٰ بن ابی فروہ مجہول ہے۔
اس وجہ سے یہ روایت باعتبار سند کمزور ہے۔
3.علماء میں اختلاف ہے کہ نماز عید وسیع و کشادہ مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا باہر نکل کر عیدگاہ میں؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وسیع و فراخ اور کشادہ مسجد میں پڑھنا افضل ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر نماز عید باہر عیدگاہ میں ادا فرمائی ہے۔
ہاں‘ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے عذر پیش آگیا تو آپ نے نماز عید مسجد میں پڑھائی‘ اس لیے عیدگاہ میں پڑھنا افضل ہے۔
4. یہ بھی معلوم حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع ہمیشہ افضل کام پر مداومت و محافظت فرمائی ہے‘ نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ نماز عید کے لیے عیدگاہ تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اگر باہر نکل کر نماز عید پڑھنا مسنون نہ ہوتا تو میں مسجد میں پڑھتا‘ اس لیے عیدگاہ میں نماز پڑھنا ہی مسنون اور افضل ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 400 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1160 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بارش کا دن ہو تو امام عید کی نماز لوگوں کو مسجد میں پڑھائے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار) عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1160]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار) عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1160]
1160. اردو حاشیہ:
یہ حدیث معناً صحیح ہے، یعنی مسئلہ اس طرح ہے کہ عید کھلے میدان میں پڑھنا افضل ہے تاہم عذر ہو تو مسجد میں بھی جائز ہے۔
یہ حدیث معناً صحیح ہے، یعنی مسئلہ اس طرح ہے کہ عید کھلے میدان میں پڑھنا افضل ہے تاہم عذر ہو تو مسجد میں بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1160 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1313 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بارش کی وجہ سے نماز عید مسجد میں پڑھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید کے دن بارش ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید مسجد ہی میں پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1313]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید کے دن بارش ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید مسجد ہی میں پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1313]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ روایت معناً صحیح ہے۔
یعنی مسئلہ اسی طرح ہے۔
کہ عید کھلے میدان میں پڑھنا افضل ہے۔
تاہم اگر کوئی ایسی مجبوری ہو کہ باہر عید پڑھانا ناممکن ہو تو مسجد میں پڑھنا جائز ہے۔
فائدہ: یہ روایت معناً صحیح ہے۔
یعنی مسئلہ اسی طرح ہے۔
کہ عید کھلے میدان میں پڑھنا افضل ہے۔
تاہم اگر کوئی ایسی مجبوری ہو کہ باہر عید پڑھانا ناممکن ہو تو مسجد میں پڑھنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1313 سے ماخوذ ہے۔