حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 397
وعن جابر رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا كان يوم العيد خالف الطريق. أخرجه البخاري. ولأبي داود عن ابن عمر رضي الله عنهما نحوه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ جانے اور واپس ہونے کے لیے راستہ تبدیل فرماتے تھے ۔
اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 986 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
986. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی ﷺ راستہ تبدیل کرتے، یعنی ایک راستے سے جاتے تو واپسی کے وقت دوسرا راستہ اختیار کرتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن حضرت جابر ؓ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:986]
حدیث حاشیہ: یعنی جو شخص سعید کا شیخ جابر ؓ کو قرار دیتا ہے اس کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے جو ابو ہریرہ ؓ کو سعید کا شیخ کہتا ہے۔
یونس کی اس روایت کو اسماعیل نے وصل کیا ہے۔
راستہ بدل کر آنا جانا بھی شرعی مصالح سے خالی نہیں ہے جس کا مقصد علماء نے یہ سمجھا کہ ہر دو راستوں پر عبادت الٰہی کے لیے نمازی کے قدم پڑیں گے اور دونوں راستوں کی زمینیں عند اللہ اس کے لیے گواہ ہوں گی (واللہ أعلم)
یونس کی اس روایت کو اسماعیل نے وصل کیا ہے۔
راستہ بدل کر آنا جانا بھی شرعی مصالح سے خالی نہیں ہے جس کا مقصد علماء نے یہ سمجھا کہ ہر دو راستوں پر عبادت الٰہی کے لیے نمازی کے قدم پڑیں گے اور دونوں راستوں کی زمینیں عند اللہ اس کے لیے گواہ ہوں گی (واللہ أعلم)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 986 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 986 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
986. حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی ﷺ راستہ تبدیل کرتے، یعنی ایک راستے سے جاتے تو واپسی کے وقت دوسرا راستہ اختیار کرتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن حضرت جابر ؓ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:986]
حدیث حاشیہ:
حافظ ابن حجر ؒ نے راستہ بدلنے کی بیس سے زیادہ مصلحتیں بیان کی ہیں جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں: ٭ ہر طرف سے شوکتِ اسلام کا اظہار ہو۔
٭ جہاں جہاں قدم پڑیں قیامت کے دن وہ خطے گواہی دیں۔
٭ دونوں طرف کے رہنے والے لوگوں سے ملاقات اور اظہار ہمدردی ہو۔
٭ راستہ بدلنے میں نیک فال مقصود ہے کیونکہ اسی راستے سے واپس جانا ایسا ہے۔
جیسا کہ پہلے کام کو ادھیڑ رہا ہے۔
٭ راستہ تبدیل کیا تاکہ یہود ومنافقین کی نظر بد سے محفوظ رہیں۔
(فتح الباري: 609/2)
حافظ ابن حجر ؒ نے راستہ بدلنے کی بیس سے زیادہ مصلحتیں بیان کی ہیں جن میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں: ٭ ہر طرف سے شوکتِ اسلام کا اظہار ہو۔
٭ جہاں جہاں قدم پڑیں قیامت کے دن وہ خطے گواہی دیں۔
٭ دونوں طرف کے رہنے والے لوگوں سے ملاقات اور اظہار ہمدردی ہو۔
٭ راستہ بدلنے میں نیک فال مقصود ہے کیونکہ اسی راستے سے واپس جانا ایسا ہے۔
جیسا کہ پہلے کام کو ادھیڑ رہا ہے۔
٭ راستہ تبدیل کیا تاکہ یہود ومنافقین کی نظر بد سے محفوظ رہیں۔
(فتح الباري: 609/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 986 سے ماخوذ ہے۔