حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 372
وعن جابر رضي الله عنه قال : مضت السنة أن في كل أربعين فصاعدا جمعة. رواه الدارقطني بإسناد ضعيف.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` سنت طریقہ یہ جاری رہا ہے کہ چالیس یا اس سے کچھ اوپر کی تعداد پر جمعہ ہے ۔
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز جمعہ کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سنت طریقہ یہ جاری رہا ہے کہ چالیس یا اس سے کچھ اوپر کی تعداد پر جمعہ ہے۔
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 372»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سنت طریقہ یہ جاری رہا ہے کہ چالیس یا اس سے کچھ اوپر کی تعداد پر جمعہ ہے۔
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 372»
تخریج:
«أخرجه الدارقطني:2 /3، 4.* خصيف وعبدالعزيز بن عبدالرحمن ضعيفان.»
تشریح: 1. نماز جمعہ کے لیے نمازیوں کی تعداد کے بارے میں کسی صحیح حدیث میں کوئی ذکر نہیں‘ اس لیے علماء کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں‘ مثلاً: کسی نے چار‘ کسی نے سات اور کسی کے نزدیک نو‘ بارہ اور کسی نے بیس اور چالیس اور پچاس اور ستر کی رائے دی ہے۔
ان میں سے کسی کی بنیاد و اساس مرفوع صحیح حدیث پر نہیں ہے۔
جماعت تو دو آدمیوں سے بھی ہو سکتی ہے‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سفر میں دو آدمی ہوں تو ایک اذان دے اور جو عمر میں بڑا اور قرآن زیادہ جانتا ہو وہ جماعت کرائے۔
(صحیح البخاري‘ الأذان‘ باب من قال لیؤذن في السفر مؤذن واحد‘ حدیث:۶۲۸‘ وصحیح مسلم‘ المساجد‘ باب من أحق بالإمامۃ‘ حدیث:۶۷۳) 2. امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نماز جمعہ کے لیے چالیس کی تعداد ہونا ضروری ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک امام کے علاوہ دو مزید آدمیوں کا ہونا کافی ہے‘ البتہ وہ جمعہ کے لیے بڑے شہر کی شرط عائد کرتے ہیں جو قطعاً صحیح نہیں۔
اسلام میں پہلا جمعہ جُوَاثٰی بستی میں ادا کیا گیا۔
(صحیح البخاري‘ الجمعۃ‘ باب الجمعۃ في القری والمدن‘ حدیث:۸۹۲) جو کہ بڑے شہر کی تعریف سے خارج ہے۔
«أخرجه الدارقطني:2 /3، 4.* خصيف وعبدالعزيز بن عبدالرحمن ضعيفان.»
تشریح: 1. نماز جمعہ کے لیے نمازیوں کی تعداد کے بارے میں کسی صحیح حدیث میں کوئی ذکر نہیں‘ اس لیے علماء کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں‘ مثلاً: کسی نے چار‘ کسی نے سات اور کسی کے نزدیک نو‘ بارہ اور کسی نے بیس اور چالیس اور پچاس اور ستر کی رائے دی ہے۔
ان میں سے کسی کی بنیاد و اساس مرفوع صحیح حدیث پر نہیں ہے۔
جماعت تو دو آدمیوں سے بھی ہو سکتی ہے‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سفر میں دو آدمی ہوں تو ایک اذان دے اور جو عمر میں بڑا اور قرآن زیادہ جانتا ہو وہ جماعت کرائے۔
(صحیح البخاري‘ الأذان‘ باب من قال لیؤذن في السفر مؤذن واحد‘ حدیث:۶۲۸‘ وصحیح مسلم‘ المساجد‘ باب من أحق بالإمامۃ‘ حدیث:۶۷۳) 2. امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نماز جمعہ کے لیے چالیس کی تعداد ہونا ضروری ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک امام کے علاوہ دو مزید آدمیوں کا ہونا کافی ہے‘ البتہ وہ جمعہ کے لیے بڑے شہر کی شرط عائد کرتے ہیں جو قطعاً صحیح نہیں۔
اسلام میں پہلا جمعہ جُوَاثٰی بستی میں ادا کیا گیا۔
(صحیح البخاري‘ الجمعۃ‘ باب الجمعۃ في القری والمدن‘ حدیث:۸۹۲) جو کہ بڑے شہر کی تعریف سے خارج ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 372 سے ماخوذ ہے۔