حدیث نمبر: 356
وعن سهل بن سعد رضي الله عنهما قال : ما كنا نقيل ولا نتغدى إلا بعد الجمعة . متفق عليه واللفظ لمسلم. وفي رواية : في عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` ( جمعہ کے روز ) ہم دوپہر کا قیلولہ اور کھانا نماز جمعہ کے بعد کرتے تھے ۔ ( بخاری و مسلم ) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں اور ایک روایت میں ہے ” یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھا ۔ “

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 356
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، الجمعة، باب قول الله تعالي: فإذا قضيت الصلاة فانتشروا، حديث:939، ومسلم، الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، حديث:859.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز جمعہ کا بیان`
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (جمعہ کے روز) ہم دوپہر کا قیلولہ اور کھانا نماز جمعہ کے بعد کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں اور ایک روایت میں ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 356»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الجمعة، باب قول الله تعالي: فإذا قضيت الصلاة فانتشروا، حديث:939، ومسلم، الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، حديث:859.»
تشریح: اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ عہد رسالت مآب میں نماز جمعہ جلدی ادا کی جاتی تھی۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نماز جمعہ کے بعد گھر واپس جا کر دوپہر کا کھانا کھاتے تھے‘ پھر دوپہر کا آرام (قیلولہ) کرتے تھے۔

راویٔ حدیث:
«حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ» ان کی کنیت ابوالعباس ہے۔
خزرجی ساعدی انصاری ہیں۔
ان کا اسم گرامی حزن تھا۔
اسلام لانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے سہل رکھ دیا۔
معلوم ہوا کہ نام اچھا نہ ہو تو اسے بدل دینا چاہیے۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت حضرت سہل رضی اللہ عنہ پندرہ برس کے تھے۔
سو سال کے قریب عمر پا کر ۹۱ ہجری میں مدینہ میں وفات پائی۔
کہا جاتا ہے مدینہ منورہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے یہی صحابی تھے۔
ان سے تقریباً ایک سو احادیث مروی ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 356 سے ماخوذ ہے۔