حدیث نمبر: 350
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « خير أمتي الذين إذا أساءوا استغفروا وإذا أحسنوا استبشروا وإذا سافروا قصروا وأفطروا» . أخرجه الطبراني في الأوسط بإسناد ضعيف ،‏‏‏‏ وهو في مراسيل سعيد بن المسيب عند البيهقي مختصرا.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو برائیاں کر کے بخشش کے طلبگار ہوتے ہیں اور جب سفر پر ہوتے ہیں تو نماز قصر کا اہتمام کرتے ہیں اور روزہ نہیں رکھتے ۔ “
اسے طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ اپنی اوسط میں روایت کیا ہے اور یہ بیہقی کے ہاں مختصراً سعید بن مسیب کی مراسیل سے ہے ۔ بیہقی نے اسے مختصر بیان کیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 350
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني في الأوسط:7 /286، حديث:6554.* ابن لهيعة وأبوالزبير مدلسان وعنعنا.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مسافر اور مریض کی نماز کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو برائیاں کر کے بخشش کے طلبگار ہوتے ہیں اور جب سفر پر ہوتے ہیں تو نماز قصر کا اہتمام کرتے ہیں اور روزہ نہیں رکھتے۔
اسے طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ اپنی اوسط میں روایت کیا ہے اور یہ بیہقی کے ہاں مختصراً سعید بن مسیب کی مراسیل سے ہے۔ بیہقی نے اسے مختصر بیان کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 350»
تخریج:
«أخرجه الطبراني في الأوسط:7 /286، حديث:6554.* ابن لهيعة وأبوالزبير مدلسان وعنعنا.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ» کبار تابعین کے سردار تھے۔
علم کے اعتبار سے ان سب سے وسیع علم رکھتے تھے۔
یہ فقہ‘ حدیث‘ زہد‘ عبادت اور تقویٰ و ورع کے جامع تھے‘ یعنی جامع العلوم شخصیت تھے۔
ان کی پیدائش حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی تھی اور ۹۰ ہجری کے بعد فوت ہوئے جب کہ ان کی عمر ۸۰ سال کے لگ بھگ تھی۔
’’مسیب‘‘ میں ’’یا‘‘ مشدد ہے اوراس پر فتحہ ہے لیکن اسے مکسور بھی پڑھا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 350 سے ماخوذ ہے۔