حدیث نمبر: 343
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إن الله يحب أن تؤتى رخصه كما يكره أن تؤتى معصيته » رواه أحمد وصححه ابن خزيمة وابن حبان وفي رواية :« كما يحب أن تؤتى عزائمه».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ کو یہ اسی طرح پسند ہے کہ جن کاموں میں اس نے رخصت عنایت فرمائی ہے ، ان میں رخصت پر عمل کیا جائے ، جس طرح اسے یہ ناپسند ہے کہ معصیت والے کاموں کو کیا جائے ۔ “
اسے احمد نے روایت کیا ہے ۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ” جیسا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ اس کے تاکیدی احکام ( فرائض ) کو ادا کیا جائے ۔ “

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 343
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أحمد: 2 /108، وابن حبان (الموارد)، حديث:545، وابن خزيمة: 2 /73، حديث:950، 2027.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´مسافر اور مریض کی نماز کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ کو یہ اسی طرح پسند ہے کہ جن کاموں میں اس نے رخصت عنایت فرمائی ہے، ان میں رخصت پر عمل کیا جائے، جس طرح اسے یہ ناپسند ہے کہ معصیت والے کاموں کو کیا جائے۔ "
اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ " جیسا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ اس کے تاکیدی احکام (فرائض) کو ادا کیا جائے۔ " «بلوغ المرام/حدیث: 343»
تخریج:
«أخرجه أحمد: 2 /108، وابن حبان (الموارد)، حديث:545، وابن خزيمة: 2 /73، حديث:950، 2027.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں نماز قصر کر کے پڑھنا بہتر ہے۔
عمل کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ اگرچہ تعداد میں مکمل چار رکعتیں پڑھنے سے کم ہے مگر افضل یہی دو رکعتیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرنا اللہ کے ہاں اسی طرح محبوب ہے جیسے عزیمت پر عمل کرنا محبوب اور پسندیدہ ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 343 سے ماخوذ ہے۔