حدیث نمبر: 339
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « صلوا على من قال لا إله إلا الله وصلوا خلف من قال لا إله إلا الله ». رواه الدارقطني بإسناد ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس کسی نے «لا إله إلا الله» زبان سے کہا اس کی نماز جنازہ پڑھو اور جو «لا إله إلا الله» کہے اس کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیا کرو ۔ “
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 339
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني: 2 /56.* عثمان بن عبدالرحمن وخالد بن إسماعيل المخزومي مجروحان متروكان.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے «لا إله إلا الله» زبان سے کہا اس کی نماز جنازہ پڑھو اور جو «لا إله إلا الله» کہے اس کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیا کرو۔
اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 339»
تخریج:
«أخرجه الدارقطني: 2 /56.* عثمان بن عبدالرحمن وخالد بن إسماعيل المخزومي مجروحان متروكان.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ گناہ گار کلمہ گو آدمی کی نماز جنازہ درست ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس کے تو قائل ہیں مگر راہزن اور باغی کی نماز جنازہ کے قائل نہیں۔
2.علماء اور بزرگ لوگوں کو فاسق و فاجر اور خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھنی چاہیے۔
3. نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خودکشی کرنے والے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی‘ البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ’’جاؤ تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
‘‘
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 339 سے ماخوذ ہے۔