حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 328
ولابن ماجه من حديث جابر رضي الله عنه: « ولا تؤمن امرأة رجلا ولا أعرابي مهاجرا ولا فاجر مؤمنا». وإسناده واه.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´ابن ماجہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` ” کوئی عورت کسی مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی بدوی دیہاتی کسی مہاجر کی امامت کرائے اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کا امام بنے ۔ “ اس روایت کی سند «واه» ضعیف ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
ابن ماجہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” کوئی عورت کسی مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی بدوی دیہاتی کسی مہاجر کی امامت کرائے اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کا امام بنے۔ “ اس روایت کی سند «واه» ضعیف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 328»
ابن ماجہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” کوئی عورت کسی مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی بدوی دیہاتی کسی مہاجر کی امامت کرائے اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کا امام بنے۔ “ اس روایت کی سند «واه» ضعیف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 328»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات، باب في فرض الجمعة، حديث:1081.* العدوي متروك، رماه وكيع بالوضع، والواليد لين الحديث، وعلي بن زيد ضعيف.»
تشریح: یہ روایت نہایت ہی کمزور سند سے منقول ہے‘ اس لیے اس سے مسائل کا استنباط کرنا درست نہیں۔
«أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات، باب في فرض الجمعة، حديث:1081.* العدوي متروك، رماه وكيع بالوضع، والواليد لين الحديث، وعلي بن زيد ضعيف.»
تشریح: یہ روایت نہایت ہی کمزور سند سے منقول ہے‘ اس لیے اس سے مسائل کا استنباط کرنا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 328 سے ماخوذ ہے۔