حدیث نمبر: 327
وعن أبن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله تعالى فإن كانوا في القراءة سواء فأعلمهم بالسنة فإن كانوا في السنة سواء فأقدمهم هجرة فإن كانوا في الهجرة سواء فأقدمهم سلما- وفي رواية: « سنا »- ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه ولا يقعد في بيته على تكرمته إلا بإذنه». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لوگوں کا امام ایسا آدمی ہو جسے قرآن حمید کا علم زیادہ ہو ۔ اگر اس وصف میں لوگ مساوی ہوں پھر وہ امام بنے جسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا علم زیادہ ہو اور اگر سنت کے علم میں بھی لوگ مساوی ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے ہجرت پہلے کی ۔ اگر اس وصف میں سب برابر ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے پہلے اسلام قبول کیا ہو اور ایک روایت میں «سلما» ( اسلام ) کی بجائے «سنا» ( عمر ) کا لفظ بھی ہے ( یعنی اگر مذکورہ بالا اوصاف میں سبھی برابر ہوں تو پھر ان میں جس کی عمر زیادہ ہو اسے امام بنایا جائے ) کوئی آدمی کسی آدمی کے دائرہ اقتدار میں امامت نہ کرائے اور نہ گھر میں اس کی مخصوص نشست ( بستر ) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے ۔ “ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 327
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، المساجد، باب من أحق بالإمامة، حديث:673.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کا امام ایسا آدمی ہو جسے قرآن حمید کا علم زیادہ ہو۔ اگر اس وصف میں لوگ مساوی ہوں پھر وہ امام بنے جسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا علم زیادہ ہو اور اگر سنت کے علم میں بھی لوگ مساوی ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے ہجرت پہلے کی۔ اگر اس وصف میں سب برابر ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے پہلے اسلام قبول کیا ہو اور ایک روایت میں «سلما» (اسلام) کی بجائے «سنا» (عمر) کا لفظ بھی ہے (یعنی اگر مذکورہ بالا اوصاف میں سبھی برابر ہوں تو پھر ان میں جس کی عمر زیادہ ہو اسے امام بنایا جائے) کوئی آدمی کسی آدمی کے دائرہ اقتدار میں امامت نہ کرائے اور نہ گھر میں اس کی مخصوص نشست (بستر) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 327»
تخریج:
«أخرجه مسلم، المساجد، باب من أحق بالإمامة، حديث:673.»
تشریح: اس حدیث کی رو سے امامت ایسے شخص کے سپرد کی جانی چاہیے جو قرآن کو زیادہ یاد رکھتا ہو‘ یا پھر سنت سے زیادہ باخبر ہو‘ یا دین کی خاطر ترک وطن کی سعادت میں قبول اسلام میں اولیت رکھتا ہو‘ یا پھر عمر رسیدہ ہو کیونکہ زیادہ امید ہے کہ جس کی عمر دراز ہوگی اس کے اعمال حسنہ بھی زیادہ ہوں گے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 327 سے ماخوذ ہے۔