حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 321
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم رأى في أصحابه تأخرا فقال لهم : « تقدموا فائتموا بي وليأتم بكم من بعدكم». رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو پیچھے ہٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا ” آگے آ جاؤ اور میری پیروی کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری پیروی کریں ۔ “ ( مسلم )
حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 321
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو پیچھے ہٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا ” آگے آ جاؤ اور میری پیروی کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری پیروی کریں۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 321»
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو پیچھے ہٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا ” آگے آ جاؤ اور میری پیروی کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری پیروی کریں۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 321»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها...، حديث:438.»
تشریح: 1. اس حدیث سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ نماز باجماعت میں پہلی صف کا درجہ اور مرتبہ دوسری صفوں سے زیادہ اور افضل ہے‘ اور دوسری بات یہ ہے کہ پہلی صف والوں کو امام کی اقتدا کرنی چاہیے۔
اس ضرورت کے لیے امام کو دیکھنا جائز ہے‘ اور دوسری صف والوں کو پہلی صف کے مقتدیوں کی اسی طرح اقتدا کرنی چاہیے۔
2.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو نمازی براہ راست امام کو نہ دیکھ سکتا ہو اور نہ اس کی آواز سن سکتا ہو تو وہ دوسرے مقتدی کی پیروی کرے۔
3. اس سے اشارتاً یہ بھی مسئلہ نکلتا ہے کہ جس کے پاس براہ راست کسی چیز کا علم نہ ہو تو اسے دوسرے صاحب علم سے معلوم کر لینا چاہیے۔
«أخرجه مسلم، الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها...، حديث:438.»
تشریح: 1. اس حدیث سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ نماز باجماعت میں پہلی صف کا درجہ اور مرتبہ دوسری صفوں سے زیادہ اور افضل ہے‘ اور دوسری بات یہ ہے کہ پہلی صف والوں کو امام کی اقتدا کرنی چاہیے۔
اس ضرورت کے لیے امام کو دیکھنا جائز ہے‘ اور دوسری صف والوں کو پہلی صف کے مقتدیوں کی اسی طرح اقتدا کرنی چاہیے۔
2.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو نمازی براہ راست امام کو نہ دیکھ سکتا ہو اور نہ اس کی آواز سن سکتا ہو تو وہ دوسرے مقتدی کی پیروی کرے۔
3. اس سے اشارتاً یہ بھی مسئلہ نکلتا ہے کہ جس کے پاس براہ راست کسی چیز کا علم نہ ہو تو اسے دوسرے صاحب علم سے معلوم کر لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 321 سے ماخوذ ہے۔