حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 275
وعن عمر رضي الله عنه قال : يا أيها الناس إنا نمر بالسجود فمن سجد فقد أصاب ومن لم يسجد فلا إثم عليه . رواه البخاري وفيه : إن الله تعالى لم يفرض السجود إلا أن نشاء. وهو في الموطأ.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا` ’’ لوگو ! ہم آیات سجدہ سے گزرتے ہیں ۔ جس نے سجدہ کیا اس نے درست کیا اور جس نے نہیں کیا اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ “ ( بخاری ) اور اسی میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا ، مگر قاری اگر چاہے تو کر سکتا ہے ۔ یہ ذکر موطا میں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´سجود سہو وغیرہ کا بیان`
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ لوگو! ہم آیات سجدہ سے گزرتے ہیں۔ جس نے سجدہ کیا اس نے درست کیا اور جس نے نہیں کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ “ (بخاری) اور اسی میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا، مگر قاری اگر چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ ذکر موطا میں ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 275»
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ لوگو! ہم آیات سجدہ سے گزرتے ہیں۔ جس نے سجدہ کیا اس نے درست کیا اور جس نے نہیں کیا اس پر کوئی گناہ نہیں۔ “ (بخاری) اور اسی میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا، مگر قاری اگر چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ ذکر موطا میں ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 275»
تخریج:
«أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب من رأي أن الله لم يوجب السجود، حديث:1077، ومالك في الموطأ:1 /206.»
تشریح: 1. بعض نسخوں میں أَنْ نَّشَائَ جمع کے صیغے کی جگہ أَنْ یَّشَائَ سے بھی منقول ہے۔
یعنی قاری کو اختیار ہے۔
اور فرض و واجب میں اختیار نہیں دیا جاتا۔
2. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں یہ فرمایا تھا۔
سامعین صحابہ سب خاموش رہے۔
اس سے اجماع سکوتی کا ثبوت ملتا ہے‘ نیز لَمْ یَفْرِضْ اور أَنْ یَّشَائَ بھی اس کی تائید مزید ہے۔
ائمۂ اربعہ میں سے امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا یہی مسلک ہے‘ نیز علمائے اہلحدیث بھی سجود تلاوت کو مسنون ہی قرار دیتے ہیں مگر احناف اسے واجب کہتے ہیں۔
«أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب من رأي أن الله لم يوجب السجود، حديث:1077، ومالك في الموطأ:1 /206.»
تشریح: 1. بعض نسخوں میں أَنْ نَّشَائَ جمع کے صیغے کی جگہ أَنْ یَّشَائَ سے بھی منقول ہے۔
یعنی قاری کو اختیار ہے۔
اور فرض و واجب میں اختیار نہیں دیا جاتا۔
2. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں یہ فرمایا تھا۔
سامعین صحابہ سب خاموش رہے۔
اس سے اجماع سکوتی کا ثبوت ملتا ہے‘ نیز لَمْ یَفْرِضْ اور أَنْ یَّشَائَ بھی اس کی تائید مزید ہے۔
ائمۂ اربعہ میں سے امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا یہی مسلک ہے‘ نیز علمائے اہلحدیث بھی سجود تلاوت کو مسنون ہی قرار دیتے ہیں مگر احناف اسے واجب کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 275 سے ماخوذ ہے۔