حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 269
وعن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أنه قال : « لكل سهو سجدتان بعدما يسلم ». رواه أبو داود وابن ماجه بسند ضعيف.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ہر سہو کے لیے دو سجدے ہیں ، جو سلام پھیرنے کے بعد ہیں ۔ “ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ دونوں نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1219 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے حکم کا بیان۔`
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1219]
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1219]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہربھول کا مطلب یہ ہے کہ غلطی خواہ کمی کی ہو یا زیادتی کی۔
اس کا ازالہ سہو کے دو سجدوں سے ہوجاتا ہے۔
(2)
اگر یقین ہوجائے کہ نماز کی رکعتیں کم پڑھی گئی ہیں تو چھوٹی ہوئی رکعت پڑھ کرسجدہ سہو کرنا چاہیے۔
جیسے گزشتہ ابواب میں بیان ہوا۔
(3)
سہو کے سجدے سلام سے پہلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اور سلام کے بعد بھی زیر مطالعہ حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ سلام سے پہلے سجدہ سہو نہیں ہوسکتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر سہو میں اسلام کے بعد بھی سجدے کرنا درست ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ہربھول کا مطلب یہ ہے کہ غلطی خواہ کمی کی ہو یا زیادتی کی۔
اس کا ازالہ سہو کے دو سجدوں سے ہوجاتا ہے۔
(2)
اگر یقین ہوجائے کہ نماز کی رکعتیں کم پڑھی گئی ہیں تو چھوٹی ہوئی رکعت پڑھ کرسجدہ سہو کرنا چاہیے۔
جیسے گزشتہ ابواب میں بیان ہوا۔
(3)
سہو کے سجدے سلام سے پہلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اور سلام کے بعد بھی زیر مطالعہ حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ سلام سے پہلے سجدہ سہو نہیں ہوسکتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر سہو میں اسلام کے بعد بھی سجدے کرنا درست ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1219 سے ماخوذ ہے۔