حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 252
وعن وائل بن حجر رضي الله عنه قال : صليت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فكان يسلم عن يمينه : « السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» وعن شماله : « السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ». رواه أبو داود بإسناد صحيح.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اسی طرح بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» ۔ ابوداؤد نے اسے صحیح سند سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 252
درجۂ حدیث محدثین: حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 997
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز کی صفت کا بیان`
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اسی طرح بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» ۔ ابوداؤد نے اسے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 252»
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اسی طرح بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے کہا «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» ۔ ابوداؤد نے اسے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 252»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، با ب في السلام، حديث:997.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے سلام میں وَبَرَکَاتُہُ کا اضافہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
یہ اضافہ گو اس موضوع کی اکثر روایات میں نہیں ہے لیکن یہ اور اس کے علاوہ بعض دیگر روایات سے بھی اس کی صحت ثابت ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے نتائج الأفکار میں تفصیل سے اس پر بحث کی ہے‘ اس لیے السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ کہنا بھی درست ہے۔
2. امام شافعی رحمہ اللہ بلکہ کبار صحابہ و تابعین کے نزدیک السلام علیکم کہہ کر نماز سے فارغ ہونا فرض ہے مگر احناف اسے صرف سنت قرار دیتے ہیں اور کسی بھی ایسے عمل کو نماز سے فارغ ہونے کے لیے کافی سمجھتے ہیں جو نماز کے منافی ہو۔
لیکن یہ صریح احادیث کے خلاف ہے اور سنت قولی و عملی کے بھی منافی ہے۔
«أخرجه أبوداود، الصلاة، با ب في السلام، حديث:997.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے سلام میں وَبَرَکَاتُہُ کا اضافہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
یہ اضافہ گو اس موضوع کی اکثر روایات میں نہیں ہے لیکن یہ اور اس کے علاوہ بعض دیگر روایات سے بھی اس کی صحت ثابت ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے نتائج الأفکار میں تفصیل سے اس پر بحث کی ہے‘ اس لیے السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ کہنا بھی درست ہے۔
2. امام شافعی رحمہ اللہ بلکہ کبار صحابہ و تابعین کے نزدیک السلام علیکم کہہ کر نماز سے فارغ ہونا فرض ہے مگر احناف اسے صرف سنت قرار دیتے ہیں اور کسی بھی ایسے عمل کو نماز سے فارغ ہونے کے لیے کافی سمجھتے ہیں جو نماز کے منافی ہو۔
لیکن یہ صریح احادیث کے خلاف ہے اور سنت قولی و عملی کے بھی منافی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 252 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 997 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سلام پھیرنے کا بیان۔`
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنے دائیں جانب «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اپنے بائیں جانب «السلام عليكم ورحمة الله» کہتے ہوئے سلام پھیر رہے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 997]
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ اپنے دائیں جانب «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته» اور اپنے بائیں جانب «السلام عليكم ورحمة الله» کہتے ہوئے سلام پھیر رہے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 997]
997۔ اردو حاشیہ:
«وبركاته» سنن ابوداؤد کے متد اول نسخوں میں دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کا اضافہ ثابت ہے اور بائیں جانب صرف «السلام وعليكم ورحمة الله» کہنا ثابت ہے، تاہم سنن ابوداؤد کے بعض نسخوں میں اور بلوغ المرام میں دونوں سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کا اضافہ ثابت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کہتا ہے یا کہنا چاہتا ہے تو جائز ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں: [نيل الاوطار۔ 334/2، سبل السلام۔ 330۔ 331/1 اور شرح بلوغ المرام صفي الرحمٰن مبارك پوري]
«وبركاته» سنن ابوداؤد کے متد اول نسخوں میں دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کا اضافہ ثابت ہے اور بائیں جانب صرف «السلام وعليكم ورحمة الله» کہنا ثابت ہے، تاہم سنن ابوداؤد کے بعض نسخوں میں اور بلوغ المرام میں دونوں سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کا اضافہ ثابت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے «وبركاته» کہتا ہے یا کہنا چاہتا ہے تو جائز ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں: [نيل الاوطار۔ 334/2، سبل السلام۔ 330۔ 331/1 اور شرح بلوغ المرام صفي الرحمٰن مبارك پوري]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 997 سے ماخوذ ہے۔