حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 242
وعنه رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم : كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم أو دعا على قوم.صححه ابن خزيمة.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے حق میں یا کسی کے لیے بد دعا فرماتے تو اس صورت میں قنوت پڑھتے ورنہ نہیں پڑھتے تھے ۔ اس کو ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 242
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نماز کی صفت کا بیان`
«. . . وعنه رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم أو دعا على قوم.صححه ابن خزيمة. . . .»
”. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے حق میں یا کسی کے لیے بد دعا فرماتے تو اس صورت میں قنوت پڑھتے ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔ اس کو ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 242]
«. . . وعنه رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: كان لا يقنت إلا إذا دعا لقوم أو دعا على قوم.صححه ابن خزيمة. . . .»
”. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم کے حق میں یا کسی کے لیے بد دعا فرماتے تو اس صورت میں قنوت پڑھتے ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔ اس کو ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 242]
لغوی تشریح:
«كَانَ لَا يَقْنُتُ» یعنی فرضی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پرھتے تھے۔
«إِلَّا إِذَا دَعَا لِقَوْمٍ» مگر جب کسی قوم کے نفع کے لیے یا مصیبت سے نجات وچھٹکارے کے لیے دعا کرتے۔
«دَعَا عَليٰ قَوْم» کسی قوم پر بددعا کرتے۔
«كَانَ لَا يَقْنُتُ» یعنی فرضی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پرھتے تھے۔
«إِلَّا إِذَا دَعَا لِقَوْمٍ» مگر جب کسی قوم کے نفع کے لیے یا مصیبت سے نجات وچھٹکارے کے لیے دعا کرتے۔
«دَعَا عَليٰ قَوْم» کسی قوم پر بددعا کرتے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 242 سے ماخوذ ہے۔